اسلام آباد ایئرپورٹ ایف ائی اے کسٹم افسران پھڈا ملزم عدالت پیش پانچ روزہ ریمانڈ منظور

اسلام آباد (احسان بخاری/ سپیشل رپورٹر) اسلام آباد ایئرپورٹ پر سگریٹ اور پان مصالحہ اسمگلنگ کی کوشش ناکام، ایف آئی اے نے ملزم کو عدالت پیش کر کے پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر کے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے ذرائع کے مطابق ایف ائی اے اسلام اباد ایئرپورٹ پر ہونے والی اسمگلنگ میں اس نیٹ ورک کی تلاش میں ہے.

جس میں کسٹم اہلکار و افسران ملوث ہیں یاد رہے کہ اسلام آباد وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ملزم سہیل کو عدالت پیش کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہوں نے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والے ایک مسافر سے بڑی مقدار میں سگریٹ، پان مصالحہ اور دیگر اشیاء برآمد ہونے کے بعد مقدمہ درج کر لیا۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم سہیل احمد ولد رفیع اللہ 18 جون 2026 کو سعودی عرب جانے والی پرواز SV-723 کے ذریعے روانہ ہو رہا تھا، امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشتبہ سفری سرگرمیوں کے باعث اس کی پروفائلنگ کی گئی، جس میں معلوم ہوا کہ وہ مختصر مدت میں متعدد بار سعودی عرب کا سفر کر چکا ہے اور اپنے سفری مقاصد کی تسلی بخش وضاحت نہ کر سکا۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق ملزم نے چار چیک اِن بیگ بک کروا رکھے تھے۔ تلاشی کے دوران سامان سے 438 پیکٹ کیپسٹن سگریٹ، راج 600 تمباکو سپریم، مختلف اقسام کے زعفرانی پان مصالحہ، جواہرات اور یونانی ادویات سمیت بڑی مقدار میں دیگر اشیاء برآمد ہوئیں، تحقیقات کے دوران ملزم کے موبائل فون کا ابتدائی جائزہ لیا گیا جس میں ایک سعودی نمبر سے رابطوں کے شواہد ملے۔

ایف آئی اے کے مطابق ابتدائی معلومات سے شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مذکورہ سامان کو ایئرپورٹ پر بعض اہلکاروں کی مبینہ سہولت کاری کے ذریعے کلیئر کروانے کی کوشش کی جا رہی تھی، ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ملزم کو پرواز سے آف لوڈ کرکے گرفتار کر لیا گیا جبکہ برآمد شدہ سامان، موبائل فون، پاسپورٹ اور دیگر شواہد تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔

دورانِ تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ گزشتہ تین سال سے ایک شخص کے لیے پاکستان سے سعودی عرب مختلف اشیاء لے جانے کا کام کر رہا تھا، اس نے مزید بتایا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد ایئرپورٹس کے ذریعے متعدد بار جدہ، ریاض، ابہا اور مدینہ سفر کر چکا ہے، ایف آئی اے نے تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109، کسٹمز ایکٹ 1969 کی دفعہ 156(8) اور پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

حکام کے مطابق کسٹمز، اے ایس ایف اور دیگر متعلقہ اداروں کے اہلکاروں کے ممکنہ کردار کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں، ذرائع کے مطابق مقدمے میں نامزد دیگر افراد اور سہولت کاروں کے خلاف بھی قانونی کارروائی کا دائرہ وسیع کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ ایف آئی اے نے مزید شواہد اکٹھے کرنے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

عدالت نے ایف ائی اے کے موقف پر ملزم محمد سہیل کو پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف ائی اے کے حوالے کر دیا جس کے بعد ایف ائی اے نے تفتیش کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسلام اباد ایئرپورٹ پر کسٹم اہلکاروں افسران کا تعین کرنے کے لیے تفتیش شروع کر دی ہے