سی ڈی اے کے دو افسران اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے پر تین روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف ائی اے کے حوالے کر دیا گیا

اسلام آباد (احسان بخاری /سپیشل رپورڑع) سی ڈی اے افسران کے خلاف این او سی اجرا میں مبینہ بے ضابطگیوں کا کیس، عدالت نے 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے اسلام آباد کی مقامی عدالت میں کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے دو افسران کو پیش کیا جن کے خلاف مبینہ طور پر اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی این او سی اجرا کا مقدمہ درج ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق ایف آئی آر نمبر 31/2026 کے تحت ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ-II سجاد اللہ اور اسسٹنٹ یاسر عرفان کو نامزد کیا گیا ہے، تفتیشی رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزمان نے مبینہ طور پر ملی بھگت کے ذریعے ترلائی کلاں اسلام آباد میں واقع پی اینڈ وی اسکیم نمبر 1 کے پلاٹ نمبر 13 کے لیے این او سی جاری کیا، حالانکہ یہ پلاٹ 2022 سے عدالتی اور قانونی تنازع کا شکار تھا۔

رپورٹ کے مطابق متعلقہ فائل میں واضح طور پر مقدمات اور قانونی رکاوٹوں کا ذکر موجود ہونے کے باوجود این او سی کی منظوری دی گئی، جس کے بعد پلاٹ کی منتقلی اور دوبارہ این او سی کے اجرا کے مراحل بھی مبینہ طور پر حقائق چھپا کر مکمل کیے گئے، شکایت کنندہ کے مطابق بعد ازاں جب پلاٹ کی فروخت کی کوشش کی گئی تو انکشاف ہوا کہ جائیداد قانونی تنازع میں ہے اور اس کی منتقلی ممکن نہیں، جس کے باعث انہیں مالی اور قانونی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ دونوں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش کے لیے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ درکار ہے تاکہ دیگر ممکنہ شریک ملزمان، ریکارڈ اور دستاویزات کی چھان بین کی جا سکے۔ تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد ملزمان کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا، عدالت کی جانب سے قرار دیا گیا ہے کہ ریمانڈ کے دوران تفتیشی ادارہ مزید شواہد اکٹھے کرے گا اور آئندہ سماعت پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ کیس میں مزید انکشافات متوقع ہیں۔