پی آئی اے کی نجکاری میں اہم پیش رفت، انتظامی کنٹرول خریدار کنسورشیم کے حوالے

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایئرلائن کا انتظامی کنٹرول خریدار کنسورشیم کے حوالے کر دیا، نجکاری کمیشن پاکستان نے اعلان کیا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری کے سلسلے میں پہلی فنانشل کلوزنگ کامیابی سے مکمل کر لی گئی ہے، جس کے بعد انتظامی اختیارات باضابطہ طور پر منتقل کر دیے گئے ہیں۔

نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے تحت پہلی فنانشل کلوزنگ حکومت پاکستان کے اقتصادی اصلاحاتی پروگرام میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں شفاف، مسابقتی اور سرمایہ کار دوست نجکاری پالیسی پر عملدرآمد کی عکاسی کرتا ہے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ 29 جنوری 2026 کو ہونے والے شیئر خریداری کے معاہدے کی تمام شرائط غیر معمولی طور پر مختصر مدت میں مکمل کی گئیں، جبکہ اس دوران قومی ایئرلائن کے فلائٹ آپریشنز اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات بھی بلا تعطل جاری رہیں۔

نجکاری کمیشن کے مطابق خریدار کنسورشیم حکومت پاکستان کو اب تک 10 ارب روپے کی ادائیگی کر چکا ہے، جبکہ پی آئی اے میں 80 ارب روپے کی نئی سرمایہ کاری بھی کی جا چکی ہے، اس سرمایہ کاری کا مقصد ایئرلائن کی مالی پوزیشن مستحکم کرنا، فضائی بیڑے میں توسیع اور جدید طرز پر اپ گریڈیشن، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا اور صارفین کو اعلیٰ معیار کی خدمات فراہم کرنا ہے۔

اعلامیے کے مطابق آئندہ ایک سال کے دوران دوسری فنانشل کلوزنگ تک خریدار کنسورشیم مزید 45 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا, اسی مرحلے پر بقیہ 25 فیصد شیئرز کی خریداری کی صورت میں حکومت پاکستان کو مزید 45 ارب روپے ادا کیے جائیں گے، نجکاری کمیشن کا کہنا ہے کہ خریدار کنسورشیم بقیہ 25 فیصد حصص خریدنے کا تحریری عندیہ بھی دے چکا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری محمد علی نے اس موقع پر کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری ایک شفاف، منصفانہ، مسابقتی اور پیشہ ورانہ انداز میں مکمل کی گئی پیچیدہ ٹرانزیکشن ہے، جو پاکستان کی ادارہ جاتی صلاحیت کا مظہر ہے, ان کے مطابق یہ پیش رفت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور نجی شعبے کی بڑھتی ہوئی شمولیت کے حکومتی عزم کو مزید تقویت دے گی اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گی۔

نجکاری کمیشن نے اس کامیابی پر وفاقی کابینہ، نجکاری کمیشن بورڈ، وزارت دفاع، وزارت خزانہ، دیگر متعلقہ سرکاری اداروں، مقامی ریگولیٹری اتھارٹیز اور مالیاتی مشیر ای وائے کنسلٹنگ دبئی کے تعاون اور رہنمائی کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔