نیدر لینڈز اسپین کی خواتین کو یرغمال بنا کر تشدد اور جنسی زیادتی، مجسٹریٹ کے سامنے تہلکہ خیز انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی کے علاقہ میں واقع ڈیفنس ہاؤسنگ میں دو غیر ملکی خواتین کی درخواست پر مبینہ اغوا، جنسی زیادتی، تشدد، بھتہ خوری اور سنگین دھمکیوں کا معا ملہ ایک ملزم نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا قریبی عزیز نکلا پولیس نے 4 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے عدالت سے 8 جولائی تک ریمانڈ لے کر تفتیش شروع کردی غیر ملکی خاتون کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے بیان میں تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے .

لاہور میں اغوا اور زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین میں سے ایک غیر ملکی خاتون اسٹرڈ گیبریلا روبنسن کا مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے بیان کا کچھ حصہ منظر عام آیا ہے جس میں انہوں نے تہلکہ خیز انکشافات کیے ہیں، اسٹرڈ گیبریلا روبنسن نے اپنے بیان حلفی میں بتایا کہ میری عمر 40 سال ہے اور میں اسپین کے شہر ہنڈاس دی لاس کی رہائشی ہوں، میری کہانی ویسی ہی ہے جیسے اسٹیفنی نے بتایا۔

غیر ملکی خاتون کا کہنا تھا اس گھر میں قیام کے دوران میرا تجربہ مختلف تھا، پہلی رات چار لوگ اسلحے کے ساتھ آئے اور ہمیں باندھ دیا، ایک شخص جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے، میرے جسم کے مخصوص حصوں کو ٹچ کیا، انہوں نے میرے چہرے پر متعدد بار گھونسے مارے، گیبریلا روبنسن نے عدالت کو بتایا کہ رضا ڈار آیا اور اس نے مجھے سے کمپیوٹر اور پیسوں کے بارے میں مجھے سے پوچھا، میں نے بتایا دونوں چیزیں سبز بیگ میں پڑی ہوئی ہیں، اس دوران اسٹیفنی کو واپس لایا گیا اور یہ لوگ ہم دونوں سے پاسورڈ اور کمپیوٹر کے بارے میں پوچھتے رہے۔

ان کا کہنا تھا انہوں نے میرے سر پر بہت زور سے پسٹل کا بٹ مارا، وہاں ایک شخص اور موجود تھا جو بہت اچھی انگلش بول رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم لوگ ہمیں مار دو گے، اس نے کہا کہ اگر تم نے ہمیں پیسے نہ دیے تو زندہ نہیں جاؤ گے، کچھ دیر بعد یہ شخص نیچے چلا گیا اور تین لوگ بیڈ روم میں آگئے، مجسٹریٹ کو دیے گئے بیان میں گیبریلا روبنسن نے بتایا کہ ایک بڑی عمر کا شخص رائفل کے ساتھ تھا اس نے دو لوگوں کو میرے پاس رکنے کا کہا، وہ صرف اردو بول رہے تھے .

اور زور زور سے ہنس رہے تھے، انہوں نے مجھے جنسی تعلق کا کہا جس کا میں نے متعد بار انکار کیا، کالے کپڑوں میں ملبوس شخص مجھے دوسرے فلور پر لے گیا اور مجھے برہنہ کیا، میں روتی رہی لیکن اس نے مجھے تھپڑ مارے اور منہ بند کرنے کا کہا، غیر ملکی خاتون نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ میرے ساتھ متعدد بار زیادتی کی، میرے شور مچانے پر وہ رک گیا اور مجھے دوبارہ کپڑے پہنا دیے، مجھے دوبارہ اس کمرے میں لے جایا گیا جہاں دیگر لوگ موجود تھے۔

یاد رہے کہ لاہور کے تھانہ ڈیفنس سی کے علاقہ میں واقع ڈیفنس ہاؤسنگ میں دو غیر ملکی خواتین کی درخواست پر مبینہ اغوا، جنسی زیادتی، تشدد، بھتہ خوری اور سنگین دھمکیوں کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا تھا ، ایف آئی آر کے مطابق مدعیہ اسٹیفنی ایڈریانا (Stephanie Adriana)، جو نیدرلینڈز کی شہری ہیں، نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنی ساتھی آسٹرڈ رابنسن براچو (Astrid Robinson Bracho) کے ہمراہ پاکستان آئیں، جہاں مبینہ طور پر انہیں یرغمال بنایا گیا۔

درخواست کے مطابق مقدمے میں محمد رضا ڈار کو مرکزی ملزم نامزد کیا گیا ہے، جبکہ اس کے ساتھ اس کے مبینہ “باس” اور تین نامعلوم ساتھیوں کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے، ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا ہے کہ ملزمان نے خواتین کو اغوا کرکے یرغمال رکھا، تشدد کا نشانہ بنایا، بھاری رقم طلب کی اور جان سے مارنے سمیت سنگین دھمکیاں دیں۔

ایف آئی آر میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک خاتون کو متعدد بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ دوسری خاتون کے ساتھ بھی مبینہ طور پر جنسی ہراسانی اور بدسلوکی کی گئی، شکایت کنندگان کے مطابق ملزمان نے ان سے رقم بھی وصول کی اور عدم ادائیگی کی صورت میں مزید نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دیں۔

پولیس نے درخواست کی بنیاد پر پاکستان پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات، جن میں 365-A اور 375-A سمیت دیگر دفعات شامل ہیں، کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں درج تمام الزامات کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جا رہی ہیں، جبکہ شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔