Stir After Farrukh Jamal's Arrest - More Key Names Likely to Surface in FIA Investigation. capitalnewspoint.com

فرخ جمال کی گرفتاری کے بعد ہلچل، ایف آئی اے کی تحقیقات میں مزید اہم نام سامنے آنے کا امکان

اسلام آباد (احسان بخاری/سپیشل رپورٹر) پروٹیکٹر آفس سکینڈل میں ملوث مرکزی ملزمان ڈائریکٹر فرخ جمال کے خلاف وزارت اوورسیز پاکستانیز اور ایف آئی اے حکام نے الگ الگ تحقیقات کا آغاز کردیا، ذرائع کے مطابق وزارت اوورسیز پاکستانیز نے ڈائریکٹر فرخ جمال کو عہدے سے فوری ہٹاتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی کو مزید کارروائی کے احکامات جاری کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔

تحقیقاتی کمیٹی گزشتہ دو سالوں سے جہاں جہاں ڈائریکٹر فرخ جمال تعینات رہا ہے اس کی مکمل تحقیقات کرکے رپورٹ پیش کرے یاد رہے کہ ایف آئی اے اینٹی کرپشن نے عوامی شکایات پر چھاپہ مار کر ملزم کو گرفتار کیا ، اور اسے عدالت پیش کیا جہاں عدالت نے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل روانہ کر دیا ہے ، ذرائع کا کہنا ہے کہ پروٹیکٹر آفس راولپنڈی کے ڈائریکٹر فرخ جمال کے خلاف مختلف اوورسیز پروموٹرز نے سیکرٹری اوورسیز کو باقاعدہ شکایت کی تھی کہ راولپنڈی آفس میں کرپشن ہورہی ہے اور ایک پاسپورٹ پر 30ہزار سے ایک لاکھ روپے لئے جارہے ہیں۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ راولپنڈی آفس میں مذکورہ ڈائریکٹر کے دس ایجنٹ تھے جو روزانہ کی بنیاد پر انہیں لاکھوں روپے کی رقم فراہم کرتے تھے اور ان ایجنٹ کے نام بھی بتائے گئے لیکن وزارت کے سیکرٹری فرخ جمال کے خلاف کوئی ایکشن نہ لیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بیورو آف امیگریشن کے ڈی جی جاوید کو بھی شکایت کی گئیں لیکن دونوں افسران نے ڈائریکٹر فرخ جمال اور اس کے کار خاص کے خلاف ایکشن نہ لیا ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ ڈائریکٹر نے مذکورہ بالا آفیسران کی آشیر باد سے اپنا تبادلہ پشاور پروٹیکٹر آفس بطور ڈائریکٹر کروالیا کیونکہ راولپنڈی میں وہ اور ان کے ایجنٹ کا کارخاص مبینہ طور پر نظر میں آگئے تھے۔

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ پشاور ایف آئی اے نے چھاپہ مار کر ایک کروڑ کی رقم برآمدگی کیس میں ڈائریکٹر فرخ جمال کو جوڈیشل کردیا جبکہ اہلکار عمران کا ریمانڈ لے کر تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کردیا، ذرائع نے مزید بتایا کہ پروٹیکٹر آفس راولپنڈی پشاور میں تعینات مذکورہ ڈائریکٹر کے کس سے رابطے اور کونسے دیگر سرکاری افسران ملوث ہیں اس حوالے سے ایف آئی اے کی ایک جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے۔

ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپشں کیس میں وزارت اوورسیز اور بیورو آف امیگریشن میں تحقیقات آفیسران کی بھی تحقیقات جاری ہیں، تحقیقاتی رپورٹ میں ذرائع نے انکشاف کیا کہ گرفتار پروٹیکٹر ڈائریکٹر فرخ جمال کے اس دھندے میں کئی اوورسیز پروموٹرز بھی ملوث ہیں جو اس کرپشن کے دھندے میں اس کے ساتھی ہیں ایف آئی اے نے ان کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کر تے ہوئے باقاعدہ لسٹ تیار کر لی ہے ۔

اس حوالے سے وزارت اوورسیز پاکستانیز کے سیکرٹری نےکیپیٹل نیوز پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ڈائریکٹر فرخ جمال کو معطل کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں، جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خلاف آپ کے خلاف شکایات موصول ہوئی تھیں تو آپ نے ایکشن کیوں نہ لیا تو ان کا کہنا تھا کہ میں نے انہیں پشاور ٹرانسفر کیا تھا اب اگر کیس میں جرم ثابت ہوجاتا ہے ان کونوکری سے فارغ کردیا جائے گا، تاہم پروٹیکٹر آفس سیکنڈل میں آئندہ مزید سنسنی خیز انکشاف کی توقع ہے۔