اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) غیر ملکیوں کو مبینہ طور پر رشوت کے عوض امیگریشن کلیئرنس دلوانے کا نیٹ ورک بے نقاب، چینی شہری ، اسلام آباد پولیس سمیت 3 افراد کے خلاف مقدمہ درج ملزمان گرفتار ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کے اسلام آباد ایئرپورٹ پر معاملے کی تحقیقات جا ری ہیں ، اس حوالے سے ایف آئی اے امیگریشن اور ایس پی یو کے اہلکاروں افسران بارے تفتیش جاری ہے اس معاملے میں اہم انکشافات کی توقع ہے .
اسلام آباد میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل نے غیر ملکی شہریوں کو مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے امیگریشن کلیئرنس اور پاکستان میں نقل و حرکت کی سہولت فراہم کرنے کے معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے چینی شہری سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ، ایف آئی آر نمبر 41/2026 کے مطابق مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 109، 161 اور 419 جبکہ انسدادِ بدعنوانی قانون 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق کیس کا آغاز ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کو موصول ہونے والی ایک سورس رپورٹ سے ہوا، جس میں امیگریشن، امپاس (IMPASS) اور اسپیشل پروٹیکشن یونٹ (SPU) سے وابستہ بعض اہلکاروں اور دیگر افراد پر مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی مالی فوائد کے عوض امیگریشن کلیئرنس دلوانے میں سہولت کاری کے الزامات سامنے آئے۔
دستاویز کے مطابق 15 اگست 2026 کو چینی شہری ژاؤ جنگ پنگ عرف جیک/جیسن سے تفتیش کے دوران مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئیں ، ایف آئی آر میں درج ہے کہ مذکورہ چینی شہری نے دعویٰ کیا کہ جُنید مغل، جو امیگریشن اینڈ پاسپورٹ افسر (IMPASS) بتایا گیا ہے، نے زفار اقبال، کانسٹیبل/آئی سی ٹی پولیس اور دیگر افراد کے ساتھ مبینہ ملی بھگت سے فی مسافر 80 ہزار روپے کے عوض امیگریشن کلیئرنس میں سہولت فراہم کی۔
ایف آئی آر کے مطابق چینی شہری کے موبائل فون سے واٹس ایپ پیغامات، رابطوں اور ادائیگیوں کی رسیدوں سے متعلق مواد بھی ملا، جسے تفتیشی حکام نے مبینہ لین دین کے الزامات کی تائید کرنے والا مواد قرار دیا۔ دستاویز میں یہ بھی درج ہے کہ غیر ملکی شہریوں کی جانب سے مبینہ طور پر باقاعدہ ماہانہ ادائیگیوں کے حوالے سے معلومات سامنے آئیں۔
سورس رپورٹ کی بنیاد پر مجاز حکام نے ایک خصوصی چھاپہ مار ٹیم تشکیل دی، جس میں ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ افسران شامل تھے ، ٹیم نے اسلام آباد کے غوری ٹاؤن میں جُنید مغل کی رہائش گاہ پر کارروائی کی۔
ایف آئی آر کے مطابق ابتدائی تفتیش اور موبائل فونز، چیٹس اور دیگر مواصلاتی مواد کے جائزے کے دوران چینی شہری ژاؤ جنگ پنگ عرف جیک/جیسن، ظفر اقبال اور دیگر افراد کے ساتھ رابطوں کا مواد سامنے آیا، جسے تفتیشی حکام نے غیر ملکی شہریوں کی امیگریشن کلیئرنس اور پاکستان میں نقل و حرکت میں مبینہ سہولت کاری سے جوڑا۔
دستاویز کے مطابق جُنید مغل نے دورانِ کارروائی مبینہ طور پر انکشاف کیا کہ اسے چینی شہری ژاؤ جنگ پنگ سے اسلام آباد کے ایف-8 علاقے میں رشوت کی رقم موصول ہوئی تھی ، یہ رقم مبینہ طور پر غیر ملکی شہریوں کو اسپارکو ٹاورز، گلبرگ اور اسلام آباد کے دیگر مقامات سے محفوظ طریقے سے لانے لے جانے اور امیگریشن کلیئرنس میں سہولت کاری کے سلسلے میں دی گئی تھی۔
ایف آئی آر کے مطابق جُنید مغل کی نشاندہی پر اس کی گاڑی ہونڈا سِوک کے ٹرنک سے ایک بلیک سوٹ کیس برآمد کیا گیا، جس میں 2 کروڑ روپے نقد موجود تھے ، دستاویز کے مطابق رقم کو گواہان کی موجودگی میں ضبط کر کے قبضے میں لے لیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ نقد رقم کی برآمدگی کے ساتھ ساتھ جُنید مغل کے موبائل فون سے حاصل ہونے والے واٹس ایپ چیٹس، پیغامات اور دیگر مواصلاتی مواد نے مبینہ نیٹ ورک سے اس کے تعلق کو مزید تقویت دی۔
تفتیشی دستاویز کے مطابق موبائل ڈیٹا میں پاسپورٹس، ویزوں، مختلف پروازوں میں مسافروں کی سہولت کاری، امیگریشن کلیئرنس اور پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات شامل تھیں ، ایف آئی اے کے مطابق حاصل شدہ موبائل ڈیٹا، چیٹس، مواصلاتی ریکارڈ اور دیگر مواد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی اور تفتیش جاری ہے .
ایف آئی آر کے مطابق کارروائی کے اگلے مرحلے میں ایف آئی اے ٹیم اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-11 میں ظفر اقبال کے مقام پر پہنچی، ظفر اقبال کو ICT Police / Special Protection Unit (SPU) سے وابستہ کانسٹیبل بتایا گیا ہے ، دستاویز کے مطابق ظفر اقبال کو حراست میں لے کر اس پر عائد الزامات سے آگاہ کیا گیا ، ابتدائی تفتیش کے دوران اس نے مبینہ طور پر مذکورہ نیٹ ورک کے ساتھ اپنے تعلق کا اعتراف کیا۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ ظفر اقبال کے موبائل فون اور دستیاب مواصلاتی مواد کا بھی جائزہ لیا گیا، جس میں غیر ملکی شہریوں کی سہولت کاری، پاسپورٹس، ویزوں، مختلف پروازوں کے مسافروں، امیگریشن کلیئرنس اور پاکستان میں نقل و حرکت سے متعلق مبینہ معلومات اور رابطے سامنے آئے ،تین افراد کو مقدمے میں نامزد ملزمان کو گرفتا ر کر لیا گیا
ایف آئی اے کی ایف آئی آر میں ابتدائی طور پر تین افراد کو نامزد کیا گیا ہے:
ژاؤ جنگ پنگ عرف جیک/جیسن، چینی شہری
جُنید مغل ولد شوکت علی، امیگریشن اینڈ پاسپورٹ افسر (IMPASS)
ظفر اقبال، کانسٹیبل، آئی سی ٹی پولیس
ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں دیگر سرکاری اہلکاروں، اسپیشل پروٹیکشن یونٹ، امیگریشن حکام، نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) اور نجی افراد کے ممکنہ کردار کا تعین بھی تفتیش کے دوران کیا جائے گا۔
ایف آئی اے نے مقدمہ درج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ دستیاب مواد کی روشنی میں نامزد افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی اور تفتیش ضروری ہے ، حکام کے مطابق تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ مبینہ نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد اور اس کے طریقۂ کار کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے ، ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کے اسلام آباد ایئرپورٹ پر معاملے کی تحقیقات جا ری ہیں ، اس حوالے سے ایف آئی اے امیگریشن اور ایس پی یو کے اہلکاروں افسران بارے تفتیش جاری ہے اس معاملے میں اہم انکشافات کی توقع ہے .

