اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے جمعہ، 4 ستمبر 2026 کو منعقدہ اجلاس میں 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال کے مالیاتی نتائج کا اعلان کیا ، تفصیلات کے مطابق او جی ڈی سی نے 449.191 ارب روپے کی خالص فروخت اور 242.374 ارب روپے کا تاریخ کا بلند ترین بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 43 فیصد زیادہ ہے۔
فی حصص آمدن بڑھ کر56.35 روپے ہوگئی، جبکہ گزشتہ سال یہ 39.50 روپے تھی ، بورڈ نے 6 روپے فی حصص (60 فیصد) حتمی نقد منافع کی منظوری دی، جو کمپنی کی تاریخ میں اب تک کا بلند ترین سہ ماہی منافع ہے۔ یہ پہلے ہی ادا کیے گئے 11 روپے فی حصص عبوری منافع کے علاوہ ہے، جس کے بعد مالی سال کے لیے مجموعی منافع17 روپے فی حصص (170 فیصد) ہوگیا، جو کمپنی کی تاریخ میں اب تک کا بلند ترین سالانہ منافع ہے۔
مالی سال کے دوران او جی ڈی سی نے کارپوریٹ ٹیکس، منافع، رائلٹی اور دیگر سرکاری محصولات کی مد میں قومی خزانے میں 187 ارب روپے جمع کرائے، کمپنی کی تیل و گیس پیداوار کے نتیجے میں درآمدات کے متبادل کے ذریعے 3.31 ارب امریکی ڈالر کی زرمبادلہ بچت ہوئی۔ وصولیوں میں بہتری کے باعث مجموعی وصولی کی شرح107 فیصد رہی اور سال کے دوران577 ارب روپے وصول کیے گئے۔
مالی سال کے دوران کمپنی کے حصص کی قیمت میں 52 فیصد اضافہ ہوا، جو KSE-100 انڈیکس میں ہونے والے 44 فیصد اضافے سے بہتر کارکردگی ہے ، 30 جون 2026 تک او جی ڈی سی کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن تقریباً 1.44 کھرب روپے تک پہنچ گئی، جس سے پاکستان کی سب سے بڑی لسٹڈ کمپنی کی حیثیت مزید مستحکم ہوئی۔
او جی ڈی سی نے سال کے دوران ایکسپلوریشن اور ڈرلنگ کے شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں ، کمپنی نے تیل و گیس کے 9 نئے ذخائر دریافت کیے، جن سے 120 ملین بیرل مساوی تیل کے 2P ذخائر کا اضافہ ہوا اور 236 فیصد ریزرو ریپلیسمنٹ ریشو حاصل کیا گیا، جو کمپنی کی تاریخ میں بلند ترین سطح ہے ، کمپنی نے 23 کنوؤں کی کھدائی شروع کی اور 58,333 میٹر ڈرلنگ مکمل کی، جو گزشتہ پانچ برسوں میں بلند ترین سطح ہے ، اس کے علاوہ کمپنی نے مزید 15 ایکسپلوریشن بلاکس میں لائسنس حاصل کیے۔
سال کے دوران اوسط یومیہ خالص قابلِ فروخت پیداوار 32,861 بیرل خام تیل، 667 ملین مکعب فٹ گیس اور 670 ٹن ایل پی جی رہی، جو سالانہ بنیاد پر بالترتیب 6.3 فیصد، 2.3 فیصد اور 4.4 فیصد اضافے کی نمائندگی کرتی ہے، باوجود اس کے کہ پیداوار میں مسلسل کٹوتیوں کا سامنا رہا ، خطے میں توانائی کی سلامتی کی صورتحال کے تناظر میں او جی ڈی سی نے ملک میں توانائی کی طلب و رسد کے فرق کو کم کرنے میں مدد کے لیے پیداوار میں کامیابی سے اضافہ کیا ، اپریل 2026 میں کمپنی کی مجموعی خام تیل کی پیداوار پہلی مرتبہ 40 ہزار بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی، جو 27 سہ ماہیوں کے بعد حاصل ہونے والی اہم کامیابی ہے۔
ایک اہم آپریشنل سنگِ میل اپریل 2026 میں بارگزئی ایکس۔1کنویں کو پیداوار میں شامل کرنا تھا ، یہ کنواں اس وقت تقریباً 5,968 بیرل تیل، 17 ملین مکعب فٹ گیس اور 60 ٹن ایل پی جی یومیہ پیدا کر رہا ہے ، اس کی پیداوار دینے والی پانچ تہوں کی مجموعی ممکنہ پیداوار کا تخمینہ 15,000 بیرل تیل اور 45 ملین مکعب فٹ گیس یومیہ لگایا گیا ہے ، کمپنی نے جھل مگسی ڈویلپمنٹ منصوبہ بھی مکمل طور پر فعال کیا جبکہ سال کے دوران ڈھکنی فرنٹ اینڈ کمپریشن منصوبہ بھی مکمل کیا گیا۔
او جی ڈی سی نے کنر-پاساکھی میں، راجیان کے ہیوی آئل فیلڈ کی بحالی اور پختہ اثاثوں کے جائزے کے ذریعے اپنی طویل مدتی ترقی اور کاروباری تنوع کی حکمت عملی پر پیش رفت جاری رکھی ، کمپنی نے شیل اور ٹائٹ گیس کے اقدامات میں بھی پیش رفت کی اورواحد بخش-1 میں جیوتھرمل پانی کی کامیاب جانچ کی، جہاں جیوتھرمل نمکین پانی میں پاکستان میں پہلی مرتبہ اعلیٰ معیار کے لیتھیم کے بڑے ذخیرے کی تصدیق ہوئی ، ریکوڈک کاپر گولڈ منصوبے اورابوظہبی آف شور بلاک-5 میں کمپنی کی شرکت بھی توانائی اور قدرتی وسائل کے وسیع تر پورٹ فولیو کی تشکیل کی حکمت عملی کو تقویت دیتی ہے۔
کمپنی نے اپنی ماحولیاتی، سماجی اور گورننس (ای ایس جی) حکمت عملی کو مزید مضبوط بناتے ہوئے اپنی پہلی ای ایس جی حکمت عملی متعارف کرائی اور ٹاسک فورس آن کلائمیٹ ریلیٹڈ فنانشل ڈسکلوزرز کے اصولوں سے ہم آہنگ موسمیاتی انکشافات پر مبنی اپنی پہلی رپورٹ شائع کی ، او جی ڈی سی اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے آئل اینڈ گیس میتھین پارٹنرشپ 2.0 میں شامل ہونے والی پہلی پاکستانی کمپنی بھی بن گئی۔
کمپنی نے سال کے دوران صنعتی حادثات کے نتیجے میں صفر ہلاکتوں کا بھی ریکارڈ قائم کیا۔ کمیونٹی ڈویلپمنٹ میں کمپنی کی خدمات کو پاکستان سینٹر فار فلانتھروپی نے بھی سراہا، جس نے او جی ڈی سی کو کارپوریٹ فلانتھروپی ایوارڈز 2025 میں پہلی پوزیشن دی۔
بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ریکارڈ مالیاتی نتائج کے حصول، آپریشنل کارکردگی میں بہتری اور کمپنی کے تلاش و تنوع کے منصوبوں کو آگے بڑھانے پر انتظامیہ کی کاوشوں کو سراہا۔ بورڈ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ او جی ڈی سی پاکستان کی توانائی سلامتی کو مزید مضبوط بنانے، اپنے وسائل کے ذخائر کو دوبارہ بھرنے اور وسعت دینے، اور اپنے شیئر ہولڈرز و دیگر اسٹیک ہولڈرز کے لیے پائیدار طویل مدتی قدر پیدا کرنے کے عمل کو جاری رکھے گی۔

