اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے آج چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک سے ملاقات کی، جس میں نیشنل ریزیلینس پلان 2025-2026 کی تیاری اور نفاذ پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس منصوبے کا مقصد 2026 کے آنے والے مون سون سیزن کے لیے جامع تیاری کرنا اور قدرتی آفات سے ہونے والی تباہ کاریوں کو کم سے کم کرنا ہے ڈاکٹر مصدق ملک نے زور دیا کہ نیشنل ریزیلینس پلان نتائج پر مبنی ہونا چاہیے.

تاکہ ایسے سانحات کے باعث ہونے والے نقصانات, خواہ وہ انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں ہوں یا انفراسٹرکچر، فصلوں اور مویشیوں کی بربادی کی صورت میں, واضح طور پر کم کیے جا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایک مضبوط اور مؤثر نظام تشکیل دینا ضروری ہے جو سب سے زیادہ متاثرہ کمیونٹیز کے لیے ٹھوس اور قابلِ پیمائش نتائج فراہم کرے چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے ان علاقوں کی نشاندہی ضروری ہے جو مختلف خطرات مثلاً سیلاب، بادل پھٹنے (کلاؤڈ برسٹ)، گلیشیئر پگھلنے، جی ایل او ایفز (گلیشیئر لیک آؤٹ فلوڈز)، اور لینڈ سلائیڈز کے لیے زیادہ حساس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خطرات کی مناسبت سے تیاری اور ردِعمل کے نظام کو مقامی سطح پر ترتیب دینا لازمی ہے تاکہ حقیقی معنوں میں ریزیلینس قائم ہو سکے۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ موجودہ ڈیزاسٹر ریسپانس سسٹم منتشر اور بکھرا ہوا ہے، جسے ایک یکساں، مربوط اور مؤثر فریم ورک میں ضم کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ فوری، ہم آہنگ اور مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان، این ڈی ایم اے اور دیگر تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے ایک جامع اور متحدہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکمتِ عملی کو یقینی بنائے گی۔

