ایس ایس پی عدیل اکبر کی موت میں خودکشی کے شواہد نہیں ملے، تحقیقات رپورٹ

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)و فاقی دارلحکومت میں تعینات ایس ایس پی عدیل اکبرکی موت مبینہ قتل یا خود کشی تحقیقاتی کمیٹی کو خودکشی کے شواہد نہیں ملےان کی موت چہرے پر گولی لگنے سے ہوئی واقع کے آٹھ دن بعد پوسٹ مارٹم رپورٹ کمیٹی کو موصول تحقیقات کا دائر وسیع آئی جی اسلام آبادا پنی شفارشات کے ساتھ رپورٹ وزیر داخلہ محسن نقوی کوآج پیش کریں گے۔ وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی فائیو کے حساس ترین علاقہ میں واقعہ سرینا ہوٹل کے سامنے واقع پیش آیا پولیس ذرائع کے مطابق، ایس پی انڈسٹریل ایریا عدیل اکبر نے سرینہ چوک کے قریب اپنے سر میں گولی مار کر خودکشی کی کوشش کی۔

واقعے کے بعد وہ زخمی حالت میں گر پڑے، جس کے بعد پولیس نے انہیں فوری طور پر قریبی اسپتال پہنچا دیا، جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا،پولیس ذرائع نے بتایا کہ ایس پی عدیل اکبر کی موت کی تحقیقات کرنے والی 3 رکنی کمیٹی نے رپورٹ کو حتمی شکل دے دی، پولیس ذرائع کے مطابق کمیٹی کو ایس پی عدیل اکبر کی خود کشی کے شواہد نہیں ملے، جب ان کی موت کی وجہ چہرے پر لگنے والی گولی ہی تھی،جبکہ موت کی تحقیقات کرنے والی 3 رکنی انکوائری کمیٹی کی سربراہی ڈی آئی جی ہارون جوئیہ کررہے تھے، کمیٹی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی مل گئی،کمیٹی نے ان کےوائرلیس آپریٹر، ڈرائیور سمیت دیگر اسٹاف اور ماہر نفسیات کے بیانات ریکارڈ کیے.

اس دوران انہیں بتایا گیا کہ ایس پی اپنے ڈاکٹر سے دو مرتبہ رجوع کیا تھا،انکوائری کمیٹی اپنی رپورٹ آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی کو پیش کرے گی جو اپنی شفارشات کے ساتھ رپورٹ وزیر داخلہ محسن نقوی کو پیش کریں گے۔واضح رہے کہ 23 اکتوبر کو یہ رپورٹ کیا گیا تھا کہ ایس ایس پی اسلام آباد عدیل اکبر نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار خود کشی کر لی، واقعہ شاہراہ دستور پر پیش آیا تھا،عدیل اکبر کو تین روز قبل ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، لیکن بیماری کے باوجود وہ مسلسل ڈیوٹی پر موجود رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے بیماری کی وجہ سے کئی بار چھٹی کے لیے درخواست دی تھی۔