سرویکل کینسر ویکسین کے حوالے سے سوال قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے حوالے

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی سید غلام مصطفیٰ شاہ نے سرویکل کینسر ویکسین کے حوالے سے سوال قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کے حوالے کردیا جبکہ وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہر ویکسین کے موقع پر پروپیگنڈا کیا جاتا ہے،دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ ہوگیا ہے تاہم پاکستان میں اب بھی اس کاسامنا ہے پیر کو قومی اسمبلی میں شائستہ پرویز ملک کے قلیل مدت سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر نیلسن عظیم نے بتایا کہ سرویکل کینسر کے حوالے سے کئی آگاہی مہمات چلائی گئیں،اس کے نتیجے میں ہی بچیاں ویکسین لگوا رہی ہیں،اس مہم میں بڑی ڈاکٹرز،سول سوسائٹی،ای پی آئی،پاکستان نرسنگ کونسل سمیت دیگر ادارے شامل ہیں،اس کے نتیجے میں اس کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں،یہ ایک نئی ویکسین ہے۔

اس کی قبولیت آہستہ آہستہ ہوگی۔اس مہم میں پارلیمنٹ کے ممبران کو بھی شامل کریں گے کہ وہ اپنے حلقوں میں اس حوالے سے کردار ادا کریں۔شاہدہ اختر علی کے سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ یہ ویکسین تحقیق کے بعد آئی ہے۔شفاء انٹرنیشنل، قائد اعظم انٹر نیشنل،اٹامک انرجی ہسپتال،سی ڈی اے ہسپتال،ای پی آئی کے ذریعے مہم چلائی گئی۔اس میں کوئی ابہام نہیں۔پارلیمنٹیرینز کا ایک سیشن کرانے کا پلان کر رہے ہیں تاکہ وہ اس کو پروموٹ کریں۔مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بھی مہم چلائی گئی 15 سال تک یہ ویکسین لائی گئی۔اس پر اب نے اطمینان کا اظہار کیا، یہ پوری دنیا میں لگ رہی ہے،عالمی صحت کے اداروں کے پروٹوکولز کے مطابق یہ ویکسین لگ رہی ہے،یہ ویکسین ایکسپائر نہیں ہوئی، محفوظ ہے۔طارق فضل چوہدری نے بتایا کہ یہ ویکسین کا ایشو ایک حساس معاملہ ہے۔

اس ویکسین کے حوالے سے اسلام آباد کے تمام ہسپتالوں میں مہم چلی، جو تاثر پاکستان میں پھیلایا جاتا ہے اس کی وجہ سے پاکستان دنیا میں ان ممالک میں شامل ہے جہاں پولیو ابھی تک برقرار ہے۔نائیجریا اور افغانستان میں پولیو ختم ہوگیا تاہم پاکستان واحد ملک رہ گیا جہاں یہ مرض برقرار ہے۔اس ویکسین لگوانے کا آغاز وفاقی وزیر صحت نے اپنی بیٹی کو لگوا کر کیا۔اس مہم میں صوبے تعاون کریں۔انہوں نے کہا کہ اس ویکسین لگوانے کے لیے تمام متعلقہ حکام تعاون کریں۔