پنجاب پولیس ملازمین و اہلخانہ کے ہیلتھ ویلفیئر کے لیے 27 لاکھ 35 ہزار روپے سے زائد فنڈز جاری

لاہور (بیورو رپورٹ) آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے کہا ہے کہ پولیس فورس اپنے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی صحت و فلاح کے لیے پرعزم ہے۔ اس سلسلے میں پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے علاج معالجے کے لیے 27 لاکھ 35 ہزار روپے سے زائد فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق کانسٹیبل ممتاز علی کو بیٹے کے سماعت کے علاج کے لیے 7 لاکھ 55 ہزار روپے، آفس سپرنٹنڈنٹ محمد ارشد کو بیوی کے کینسر کے علاج کے لیے 2 لاکھ 50 ہزار، اے ایس آئی طارق محمود کو بیوی کے کینسر کے علاج کے لیے 2 لاکھ 30 ہزار، اور غازی انسپکٹر محمد اعجاز کو دماغی سرجری کے لیے 2 لاکھ روپے فنڈز جاری کیے گئے۔

اس کے علاوہ کانسٹیبلز عبدالنافع، عامر ارشاد، عطا الرحمن، ریٹائرڈ ڈی ایس پی سبطین بخاری، لیڈی انسپکٹر نسرین اختر، ڈرائیور کانسٹیبل فیض احمد، غازی سب انسپکٹر محمد سرفراز، کانسٹیبلز امتیاز احمد اور شہزاد احمد کو علاج کے لیے ایک لاکھ روپے فی کس فراہم کیے گئے۔ مزید یہ کہ ہیڈ کانسٹیبل قمرالدین، جونیئر پٹرولنگ آفیسر عبدالحنان، ڈرائیور کانسٹیبل مظہر حسین کو مجموعی طور پر 2 لاکھ 50 ہزار، اور لیڈی کانسٹیبل ثمینہ ناز و مرحوم سینڑی ورکر آصف اقبال کی بیوہ کو 1 لاکھ 50 ہزار روپے فراہم کیے گئے۔ فنڈز کی منظوری میڈیکل فنانشل اسسٹنس کمیٹی کی سکروٹنی کے بعد آئی جی پنجاب نے دی۔

آئی جی پنجاب کی زیر نگرانی سال 2025 میں محکمہ پنجاب پولیس کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے۔ سال کے دوران صوبہ بھر میں میرٹ و سنیارٹی کے مطابق 6 ہزار سے زائد پروموشنز دی گئیں، اور ٹریفک وارڈنز و سینئر ٹریفک وارڈنز کی فاسٹ ٹریک پروموشنز کے لیے حکومت پنجاب سے نئے پروموشن سٹرکچر کی منظوری دی گئی۔

سال 2025 میں پولیس ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے ویلفیئر پر تقریباً 8 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ پولیس ملازمین کے تھیلیسیمیا سے متاثرہ بچوں کے ماہانہ وظیفے کو 15 ہزار سے بڑھا کر 30 ہزار، سیریبل پالسی کے شکار بچوں کے لیے 10 ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار، اور آٹزم کے شکار بچوں کے لیے 10 ہزار روپے ماہانہ دینے کی منظوری دی گئی۔ صوبہ بھر کے پولیس خدمت مراکز پر 38 لاکھ 44 ہزار سے زائد شہریوں کو سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔