اقوام متحدہ(ویب ڈیسک )پاکستان نے یمن میں طویل عرصے سے جاری تنازعے کے حل کے لیے جامع اور شمولیتی سیاسی مذاکرات پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بنیادی سہولیات کے خاتمے کے باعث لاکھوں افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں ،انہوں نے اقوام متحدہ کے زیرِ حراست امدادی عملے کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کیا ۔
یواین میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمام یمنی فریقین اور علاقائی شراکت دار ایسے جامع اور پائیدار سیاسی تصفیے کے لیے تعمیری کردار ادا کریں جو یمنی عوام کی امنگوں کی عکاسی کرے اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنائے۔یمن کی صورتحال پر بحث کے دوران پاکستانی مندوب نے حالیہ واقعات اور تشدد میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور سعودی عرب کی میزبانی میں ریاض میں جامع مذاکرات بلانے کے عدن میں قائم صدارتی قیادت کونسل کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے تمام یمنی فریقین پر زور دیا کہ طے شدہ اصولوں کی بنیاد پر سیاسی حل کے لیے مذاکرات کریں۔سفیر عاصم احمد نے کہا کہ پاکستان یمن کی وحدت، خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور کسی بھی ایسے یکطرفہ اقدام کی مخالفت کرتا ہے جو اختلافات کو بڑھائے، کشیدگی میں اضافہ کرے اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچائے۔پاکستانی مندوب نے یمن کی قیادت میں اور یمنی عوام کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا اور اقوامِ متحدہ اور اس کے خصوصی ایلچی کے کردار کو سراہا۔
انہوں نے حوثی کنٹرول والے علاقوں میں اقوامِ متحدہ، امدادی اور سفارتی عملے کی من مانی گرفتاریوں اور عالمی ادارے کی املاک پر قبضے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔پاکستانی سفیر نے یمن کے عوام کی شدید انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے بلا رکاوٹ انسانی رسائی اور مناسب و مستقل فنڈنگ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو یمن میں امن و استحکام کے لیے متحد ہو کر مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے عمان اور متحدہ عرب امارات کی کاوشوں کو بھی سراہا۔

