اسلام آباد (سٹاف رپورٹر )وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری پاکستان میں روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے، تحقیق و ترقی کو فروغ دینے اور برآمدات میں نمایاں اضافے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجی اب محض ایک صنعتی شعبہ نہیں بلکہ قومی خودمختاری، ڈیجیٹل معیشت اور مستقبل کی عالمی مسابقت کا بنیادی ستون بن چکی ہے۔ وہ جمعرات کو بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں منعقدہ قومی سیمی کنڈکٹر راؤنڈ ٹیبل کانفرنس سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہی تھیں جس کا اہتمام جامعہ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کے وژن کے تحت کیا گیا۔ کانفرنس میں پالیسی سازوں، صنعت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے مابین قریبی اشتراک پر زور دیا گیا تاکہ پاکستان میں ایک مضبوط اور پائیدار سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم کی بنیاد رکھی جا سکے۔
وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ نے کانفرنس کے انعقاد کو بروقت اور قومی ضرورت سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جامعات کو محض تدریس و تحقیق تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ قومی ترقی کی سمت کے تعین میں فعال اور فکری قیادت کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر جیسے تزویراتی شعبوں میں تھنک ٹینکس، پالیسی پلیٹ فارمز اور صنعتی روابط کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ یہ کانفرنس وزیر اعظم کے فلیگ شپ پروگرام INSPIRE اور اکتوبر 2025 میں شروع کئے گئے قومی سیمی کنڈکٹر اقدام سے مکمل ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر اب پاکستان کی قومی ترجیح بن چکا ہے اور اسے اڑان پاکستان وژن کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے جس کا ہدف 2035 تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر معیشت میں تبدیل کرنا ہے۔ ان کے مطابق اس وژن کی تکمیل ہنر مند افرادی قوت، معیاری روزگار اور جدید انفراسٹرکچر کی تعمیر سے مشروط ہے۔
صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے سیمی کنڈکٹر صنعت کی عالمی وسعت اور پاکستان کے لئے اس کی سٹریٹجک اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کنڈکٹر شعبہ پاکستان کی معاشی مضبوطی، ڈیجیٹل خودمختاری اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ افرادی قوت کی تیاری میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ اسلامی یونیورسٹی اس قومی تبدیلی میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہی ہے اور جامعہ تعلیمی اداروں، صنعت اور پالیسی سازوں کے درمیان ایک مؤثر پل بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صدر جامعہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے سیمی کنڈکٹر اہداف سعودی عرب میں جاری اقدامات سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں، جو خطے میں باہمی تعاون، علمی تبادلے اور مشترکہ صلاحیت سازی کے نئے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی یونیورسٹی اس تناظر میں ایک قابلِ اعتماد علمی شراکت دار کے طور پر ابھر رہی ہے۔
اس موقع پر وائس پریذیڈنٹ (ریسرچ اینڈ انٹرپرائز) پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے سیمی کنڈکٹر شعبے کی ترقی کے امکانات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پائیدار ماحولیاتی نظام کے قیام کے لئے طویل المدتی پالیسی تسلسل، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور صبر آزما سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید الیکٹرانکس اور مائیکرو الیکٹرانکس میں جامعہ کی پیشرفت ایک گہری ادارہ جاتی وابستگی کا نتیجہ ہے۔ بعد ازاں انہوں نے سینٹر فار ایڈوانسڈ الیکٹرانکس اینڈ فوٹو وولٹائک انجینئرنگ کی سالانہ پورٹ فولیو رپورٹ اور یادگاری شیلڈ مہمانِ خصوصی کو پیش کی۔ راؤنڈ ٹیبل کانفرنس کے دوران تین تکنیکی پینلز منعقد کئے گئے جن میں سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا۔ پہلا پینل ’’سیمی کنڈکٹرز: پالیسی، گورننس اور فنڈنگ‘‘ ڈاکٹر اسما منصور کی زیرِ نظامت منعقد ہوا جس میں پالیسی ہم آہنگی، حکمرانی اور مالی وسائل پر گفتگو کی گئی۔
دوسرا پینل ’’انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور عالمی انضمام‘‘ انجینئر احسن مرزا کی زیرِ نظامت منعقد ہوا جس میں صنعتی ترقی اور روزگار کے عملی امکانات زیرِ بحث آئے۔ تیسرا پینل ’’تعلیمی نقطۂ نظر اور سیمی کنڈکٹرز‘‘ کے عنوان سے منعقد ہوا جس میں جامعات کے کردار، تحقیق، جدت اور ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر زور دیا گیا۔ کانفرنس میں بین الاقوامی ماہرین کے ریکارڈ شدہ پیغامات بھی شامل کئے گئےجن میں سعودی عرب کے نیشنل سیمی کنڈکٹر حب کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر نوید شروانی اور GS Microelectronics کی بانی و سی ای او ڈاکٹر فرحت جہانگیر شامل تھیں جنہوں نے عالمی اشتراک، مینوفیکچرنگ، OSAT آپریشنز اور کوالٹی اشورنس پر قیمتی تجاویز پیش کیں۔
کانفرنس کے اختتام پر اس امر کا اعادہ کیا گیا کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد صدر جامعہ پروفیسر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کی قیادت میں ایک قومی فکری رہنما کے طور پر ابھر رہی ہے جو پالیسی وژن، تعلیمی صلاحیت اور صنعتی اشتراک کو یکجا کرتے ہوئے پاکستان کے لئے ایک مربوط اور مستقبل شناس سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ آخر میں پروفیسر ڈاکٹر احمد شجاع سید نے بزنس انکیوبیشن سینٹر اور پروٹوکول و پبلک ریلیشنز ٹیم کی خدمات کو سراہا۔

