اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ) وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ بحری ورثہ قومی اثاثہ ہے جو ثقافتی شناخت، تعلیم اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ بلیو اکانومی کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا ، وفاقی وزیر نے یہ بات وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں کہی، جس میں بحری ورثے کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور بین الوزارتی تعاون کے لیے ایک مستقل فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ گفتگو کا محور پالیسی، تحقیق اور تحفظ کے اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا تاکہ بحری ورثے کی مؤثر دستاویز بندی کی جا سکے اور قومی ترقی کی وسیع حکمت عملیوں میں شامل کیا جائے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کا ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلِ سمندر صدیوں سے جنوبی ایشیا کو بحرِ ہند کی وسیع دنیا سے جوڑتا رہا ہے۔ تاریخی بندرگاہیں، قدیم بحری راستے، جہازوں کے ملبے، لائٹ ہاؤسز اور ماہی گیروں کی بستیاں ایک طویل بحری روایت کی گواہ ہیں جو بدقسمتی سے اب تک مکمل طور پر دستاویزی شکل اختیار نہیں کر سکیں اور بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہیں وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ہمارا بحری ورثہ صرف ماضی کا ریکارڈ نہیں بلکہ مستقبل کے لیے ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔ اس کے تحفظ سے تعلیم، سیاحت اور بلیو اکانومی کو فروغ مل سکتا ہے اور قومی شناخت مضبوط ہو سکتی ہے۔ مناسب منصوبہ بندی اور باہمی تعاون سے ہم اپنے ورثے کا تحفظ بھی کر سکتے ہیں اور سمندروں کی معاشی صلاحیت سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور سمندری راستے علاقائی تجارت اور ثقافتی تبادلوں کا مرکز رہے ہیں، جن کے نتیجے میں تاریخی بندرگاہوں اور زیرِ آب آثارِ قدیمہ جیسے ٹھوس اثاثے اور روایتی ماہی گیری کے طریقوں اور ساحلی برادریوں کے علم پر مشتمل غیر مادی ورثہ وجود میں آیا۔ ان اثاثوں کے تحفظ کے لیے “پورے حکومتی نظام” پر مبنی حکمت عملی ناگزیر ہے انہوں نے خبردار کیا کہ ساحلی کٹاؤ، موسمیاتی تبدیلی، غیر منظم ترقی اور غیر قانونی کھدائی بحری ورثے خصوصاً زیرِ آب ثقافتی اثاثوں کے لیے سنگین خطرات بن رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی ایک ادارہ اکیلا ان چیلنجز سے نہیں نمٹ سکتا، اس کے لیے بین الوزارتی ہم آہنگی ناگزیر ہے تاکہ تحفظ اور پائیدار معاشی سرگرمی ساتھ ساتھ چل سکیں۔
اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے بھی مشترکہ اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ثقافتی اداروں، عجائب گھروں اور تحقیقی مراکز کا کردار بحری تاریخ کی دستاویز بندی اور تشریح میں نہایت اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وزارت ساحلی علاقوں میں ورثہ جاتی مقامات کی نشاندہی، آثارِ قدیمہ کے سرویز کی معاونت اور نمائشوں، نصاب اور کمیونٹی شمولیت کے ذریعے عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے بحری حکام کے ساتھ قریبی تعاون کرے گی ، اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ بحری ورثہ پاکستان کی ثقافتی شناخت کا لازمی جزو ہے۔ قدیم تجارتی روابط سے لے کر ساحلی برادریوں کی زندہ روایات تک، اس ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ تحفظ کے اقدامات تحقیق پر مبنی، مقامی برادریوں کے احترام اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہونے چاہئیں۔
ملاقات میں مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر بھی غور کیا گیا جو پالیسیوں میں ہم آہنگی، ڈیٹا کے تبادلے اور منصوبہ جاتی تجاویز کی تیاری میں معاون ہوگا۔ مجوزہ تعاون کے شعبوں میں تاریخی بندرگاہوں اور لائٹ ہاؤسز کا تحفظ، روایتی کشتی سازی کی دستاویز بندی، زیرِ آب آثارِ قدیمہ کی حفاظت اور ذمہ دار بحری سیاحت کا فروغ شامل ہے گفتگو کے دوران اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ ورثہ جاتی مقامات کو نقصان سے بچانے کے لیے قانونی اور ضابطہ جاتی فریم ورک کو مضبوط بنایا جائے، ساحلی ترقی پر سخت نگرانی ہو اور زیرِ آب اثاثوں کی مؤثر مانیٹرنگ کی جائے۔ مقامی اداروں کی استعداد کار بڑھانے کے ساتھ ساتھ جامعات اور بین الاقوامی شراکت داروں سے تعاون کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا مقصد خصوصاً نوجوانوں، محققین اور سیاحوں کو بحری امور کی جانب راغب کرنا ہے۔ بحری ورثے کو اجاگر کر کے ہم میرین سائنسز، شپنگ، ماہی گیری اور بندرگاہی انتظام میں کیریئرز کی ترغیب دے سکتے ہیں اور بلیو اکانومی کے بارے میں عوامی شعور بڑھا سکتے ہیں ملاقات کے اختتام پر دونوں وزرا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پالیسی سطح کی گفتگو کو عملی منصوبوں میں تبدیل کیا جائے گا تاکہ پاکستان کے بحری ورثے کو مستقبل کی نسلوں کے لیے مشترکہ امانت کے طور پر محفوظ بنایا جا سکے.

