اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وزیرِ مملکت برائے وفاقی تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت وجیہہ قمر نے مصر کے سفیر ڈاکٹر ایہاب عبد الحمید اور ان کے پولیٹیکل آفیسر سے ملاقات کی جس میں تعلیم کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ جمعرات کو ہونے والی یہ ملاقات وزیرِ مملکت کی مصری وزیرِ تعلیم سے حالیہ ملاقات کے تسلسل میں ہوئی جس کا مقصد پاکستان اور مصر کے درمیان تعلیمی تعاون کو مزید وسعت دینا تھا۔ دونوں جانب سے تعلیم کے شعبے میں سٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط بنانے، بالخصوص معیارِ تعلیم میں بہتری اور ادارہ جاتی ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مصری وفد نے نصاب کو سادہ اور مؤثر بنانے کے حوالے سے اپنے تجربات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کس طرح سیکھنے کے نتائج برقرار رکھتے ہوئے نصاب میں توازن پیدا کیا گیا۔ بین الاقوامی شراکت داروں جیسے یونیسف اور برٹش کونسل کے ساتھ تعاون کے ماڈلز پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ پاکستان نے مصری تجربات سے استفادہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس موقع پر مصر کے سفیر کی جانب سے حکومت کے زیرِ انتظام بکلوریٹ سسٹم کے بارے میں بریفنگ دی گئی جو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ہے۔
اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اے لیول اور او لیول کے متوازی ایک ایسے ماڈل کی تیاری کے امکانات کا جائزہ لے گا۔مصر میں زیرِ تعلیم پاکستانی میڈیکل طلبہ کے مسائل بھی زیرِ بحث آئے اور دونوں ممالک نے طلبہ کی سہولت کے لئے مؤثر رابطہ اور فالو اپ میکنزم بہتر بنانے پر اتفاق کیا۔کلاس رومز میں طلبہ کے زیادہ رش کے مسئلے کے حل کے لئے مصر کی ’’ری آرگنائزیشن‘‘ حکمتِ عملی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا اور پاکستان نے اسے مقامی تناظر میں قابلِ عمل بنانے کے امکانات کا جائزہ لینے پر آمادگی ظاہر کی۔ملاقات میں مصر کے مکمل طور پر ڈیجیٹل قومی نصاب کے منصوبے ’’گریٹ بک‘‘ پر بھی گفتگو ہوئی۔
پاکستان نے اس پلیٹ فارم کے ڈیزائن، مشترکہ سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور اوپن سورس تعاون کے امکانات میں دلچسپی اہر کی۔ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ٹیوٹ) کے شعبے میں بھی دونوں ممالک نے بین الاقوامی شراکت داری، نجی شعبے کی شمولیت اور گریجویٹس کی روزگار سے ہم آہنگ مہارتوں کے فروغ سے متعلق اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور ترجیحی شعبہ جات کی نشاندہی کی۔
عربی زبان کی تدریس کے فروغ پر بھی بات چیت ہوئی جس میں مصر نے تکنیکی معاونت اور تربیتی تعاون کی پیشکش کی۔دونوں ممالک نے طلبہ، ٹرینرز اور ماہرینِ تعلیم کے تبادلہ پروگراموں کو فروغ دینے پر بھی اتفاق کیا تاکہ ادارہ جاتی روابط مزید مستحکم ہو سکیں۔ملاقات کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ ہونے والی بات چیت کو عملی اقدامات میں تبدیل کرتے ہوئے دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلیمی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔

