دبئی(ویب ڈیسک ) مشرق وسطیٰ میں آگ لگی ہوئی ہے اور اس کی لپیٹ میں پورا خطہ آگیا ہے۔ سپر پاور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف ایران کی جانب کی گئی جوابی کارروائی نے خلیجی ممالک سمیت پورے خطے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ایرانی میزائلوں کی شدید بارش نے نہ صرف اسرائیل بلکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (دبئی اور ابوظبی)، قطر اور کویت سمیت متعدد عرب ممالک میں زندگی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔
سوشل میڈیا کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد ایرانی فوج نے اپنا پورا زور لگا دیا۔ ہائپرسونک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنایا گیا، جہاں متعدد شہر کھنڈرات میں تبدیل ہو گئے۔ اسرائیلی قیادت میں بکھلاہٹ پائی جاتی ہے اور بڑی تعداد میں اسرائیلی شہری ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے۔تاہم، ایران کا اصل نشانہ خطے میں موجود امریکی اڈے تھے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائلوں کی ایسی بارش کی گئی کہ وہ مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ دبئی اور ابوظبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر بھی حملے کیے گئے، جس کی وجہ سے یہ اہم فضائی مراکز تباہی کے مناظر پیش کرنے لگے۔ خدشات کے پیش نظر کہ عوام ان ممالک سے فرار ہونے کی کوشش کر سکتے ہیں، ایران نے ایئرپورٹس کو اپنے حملوں کا خاص نشانہ بنایا۔
دوسری جانب، خلیجی پانیوں میں بھی کشیدگی جاری رہی۔ قطری آئل ٹینکر کو ایرانی میزائل حملے میں تباہ کر دیا گیا، جس سے خطے میں توانائی کی فراہمی کے بارے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ابتدائی رپورٹس کے مطابق، امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی عرب ممالک کو اس جنگ میں اب تک کھربوں ڈالر کا مالی نقصان پہنچ چکا ہے۔ تیل کی تنصیبات، انفراسٹرکچر اور فوجی اڈوں کی تباہی نے معاشی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں ، اس جنگ میں ایرانی قیادت کو بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، ملک کے سپریم لیڈر اس کشیدگی اور حملوں کے دوران شہید ہو گئے۔ ایرانی قیادت نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل سے اس کا بھرپور بدلہ لیں گے۔
ادھر پوری دنیا کی نظریں اس تباہی پر لگی ہیں۔ متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک دنیا کے باقی حصوں سے کٹ گئے ہیں۔ امارات ایئرلائن اور دیگر علاقائی فضائی کمپنیوں نے اعلان کیا ہے کہ علاقائی کشیدگی اور ایرانی میزائل حملوں کے پیش نظر تمام پروازیں معطل کر دی گئی ہیں، جو کم از کم پیر تک بند رہیں گی۔ اس سے دنیا بھر میں پھنسے ہوئے مسافروں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گیا ہے ، یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایران نے سپر پاور امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ دس عرب ممالک کو براہ راست چیلنج کرتے ہوئے انہیں ایسا نقصان پہنچایا ہے جس کی تلافی میں برسوں لگ سکتے ہیں اور خطے میں انسانی المیہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

