پاکستان نے ڈبلیو ٹی او کی چودھویں وزارتی کانفرنس میں عالمی تجارتی نظام میں شفافیت اور شمولیت کے لیے موقف پیش کیا

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی چودھویں وزارتی کانفرنس کیمرون کے دارالحکومت یواوندے میں جاری ہے جس میں وزیر مملکت خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی کی قیادت میں پاکستانی وفد نے عالمی تجارت میں سب کے لیے یکساں مواقع فراہم کرنے کے اصلاحاتی سیشنز میں شرکت کی اور اس موقع پر اہم دوطرفہ ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ بلال اظہر کیانی نے عالمی تجارت پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا، عالمی تجارتی نظام کو شفاف، جامع اور لچکدار بنانے پر زور دیتے ہوئے کثیرالجہتی مذاکرات میں پاکستان کی برابری اور ترقیاتی ایجنڈے کی حمایت کی۔

اصلاحات کے پلینری اجلاس میں پاکستان نے اہم تجارتی مفادات کے تحفظ پر مؤقف پیش کیا۔ ڈبلیو ٹی او کے زرعی امور لیے منتخب منسٹر فسیلیٹیٹر کے طور پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے برطانیہ کے سیکریٹری آف سٹیٹ فار بزنس اینڈ ٹریڈ پیٹر کیل، ترکیہ کے وزیر تجارت ڈاکٹر عمر بولت، جاپان کے نائب وزیر زراعت، جنگلات اور ماہی گیری یوکی نورو نیموٹو سے ملاقات کی۔ بلال اظہر کیانی کی چین، امریکا ، برازیل، یورپی یونین، کیمرون، موزیمبیک، کینیڈا اور ارجنٹائن کے اعلی حکام اور کاٹن فور کے رکن ممالک کے نمائندوں سے بھی ملاقات میں مشاورت کی۔

وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے دوطرفہ ملاقاتوں میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قوانین پر مبنی عالمی تجارتی نظام کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ وزیر مملکت کے موقف سے دیگر عالمی شخصیات نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں اور غذائی تحفظ کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔ رکن ممالک نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

جنیوا میں ڈبلیو ٹی او کے لئے پاکستان کے مستقل مندوب علی سرفراز حسین وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی معاونت کر رہے ہیں۔ شریک ممالک نے کانفرنس کے مجوزہ اعلامیہ پر اتفاقِ رائے کے سلسلے میں پاکستان کی کاوشوں کو سراہا۔ پاکستان کا وفد آج (ہفتہ) اور کل (اتوار) کو بھی ڈبلیو ٹی او کانفرنس کے تحت مذاکرات میں شریک رہے گا۔