اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں بین الاقوامی فنڈ برائے زرعی ترقی (International Fund for Agricultural Development – IFAD) کے وفد نے شرکت کی۔ وفد کی قیادت فرنینڈا تھوماز دا روچا، کنٹری ڈائریکٹر (ایشیا)، کر رہی تھیں جبکہ کنٹری پروگرام کوآرڈینیٹر غلام نبی مری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اجلاس میں پاکستان میں پائیدار زرعی ترقی، دیہی معیشت کی بہتری اور غربت کے خاتمے کے لیے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر رانا تنویر حسین نے کہا کہ پاکستان IFAD کے ساتھ اپنی دیرینہ شراکت داری کو انتہائی اہمیت دیتا ہے جو 1979 سے جاری ہے اور وقت کے ساتھ ایک مضبوط اور مؤثر ترقیاتی تعاون میں تبدیل ہو چکی ہے۔ انہوں نے IFAD کی جانب سے پاکستان کے مختلف دیہی علاقوں میں کیے جانے والے ترقیاتی اقدامات کو سراہا جنہوں نے لاکھوں افراد کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ انہوں نے خصوصاً گلگت بلتستان اور سندھ کے ساحلی اضلاع سجاول، بدین اور ٹھٹھہ میں IFAD کے منصوبوں کو دیہی ترقی کے اہم ماڈلز قرار دیا ، وفاقی وزیر نے Rome کے اپنے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ IFAD کی قیادت کے ساتھ ان کی ملاقاتیں انتہائی مفید اور نتیجہ خیز رہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے زرعی شعبے کو درپیش چیلنجز، خصوصاً موسمیاتی تبدیلی، پانی کی کمی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کی ضرورت کے پیش نظر IFAD کی مالی اور تکنیکی معاونت کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے دیہی معیشت کی مضبوطی، ویلیو چین کی ترقی اور جدید و موسمیاتی لحاظ سے محفوظ زرعی طریقوں کے فروغ کے لیے نئے منصوبوں کے آغاز میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
رانا تنویر حسین نے IFAD کی اس اسٹریٹجک ترجیح کو سراہا جس کے تحت چھوٹے کاشتکاروں کو بااختیار بنایا جاتا ہے، دیہی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جاتے ہیں اور موسمیاتی خطرات کے مقابلے میں دیہی معیشت کی مضبوطی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ IFAD کا ترقیاتی ماڈل، جو رعایتی مالی معاونت، کمیونٹی پر مبنی ترقی اور شمولیتی ترقی پر مبنی ہے، پاکستان کی قومی ترقیاتی ترجیحات سے مکمل ہم آہنگ ہے۔
فرنینڈا تھوماز دا روچا، کنٹری ڈائریکٹر (ایشیا) IFAD نے کہا کہ پاکستان ادارے کے لیے انتہائی اہم شراکت دار ملک ہے اور IFAD کے عالمی پورٹ فولیو میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ IFAD اس وقت پاکستان میں متعدد ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر دیہی ترقی کے مختلف اقدامات کی مالی و تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ IFAD کا بنیادی فوکس زرعی پیداوار میں اضافہ، کسانوں کو منڈیوں تک بہتر رسائی فراہم کرنا، دیہی نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کرنا اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے خلاف دیہی علاقوں کی مزاحمت کو مضبوط بنانا ہے ، کنٹری پروگرام کوآرڈینیٹر غلام نبی مری نے جاری منصوبوں، خصوصاً نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام (NPGP)، کی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے ان منصوبوں کے نچلی سطح تک اثرات اور وسیع عوامی رسائی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل تعاون، جدید حکمت عملی اور مالی معاونت کی ضرورت ہے۔
پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کے چیئرمین نے بھی اجلاس میں شرکت کی اور IFAD کے ساتھ سنٹر آف ایکسیلنس کے تحت تعاون بڑھانے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زرعی تحقیق، جدت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار میں اضافے کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ اور کسانوں کی آمدن میں بہتری لائی جا سکے اجلاس کے اختتام پر حکومتِ پاکستان اور IFAD کے درمیان اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جاری منصوبوں کو وسعت دی جائے گی اور نئے شعبوں میں اشتراک کے مواقع تلاش کیے جائیں گے تاکہ پائیدار زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور دیہی خوشحالی کے اہداف کو مؤثر انداز میں حاصل کیا جا سکے.

