غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے صنعتیں متاثر، برآمدی اہداف خطرے میں. صدر آر سی سی آئی عثمان شوکت

راولپنڈی(کامرس رپورٹر ) راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر عثمان شوکت نے ملک میں بڑھتی ہوئی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے صنعتی پیداوار بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور برآمدی اہداف خطرے میں پڑ گئے ہیں۔صدر آر سی سی آئی نے ملک بھر میں کاروباری اوقات کے غیر یکساں نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مختلف شہروں اور صوبوں میں مختلف اوقاتِ کار سے کاروباری سرگرمیوں میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پورے پاکستان میں یکساں کاروباری اوقات نافذ کیے جائیں تاکہ تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کاروباری اوقات میں بجلی کی مسلسل بندش سے فیکٹریوں کی پیداواری صلاحیت کم ہو رہی ہے، لاگت میں اضافہ ہو رہا ہے اور برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی تاجر برادری نے بھی اسی نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا ہے جہاں لوڈشیڈنگ اور سخت پالیسیوں کے باعث معاشی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو رہی ہیں۔
عثمان شوکت نے کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو پاکستان کی برآمدی صنعت مزید کمزور ہو جائے گی اور عالمی منڈی میں مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی ناگزیر ہے تاکہ پیداواری عمل جاری رکھا جا سکے اور بین الاقوامی خریداروں کا اعتماد برقرار رہے۔انہوں نے خلیجی خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ترسیلاتِ زر میں کمی کا خدشہ ہے، جو کہ ملکی معیشت کا اہم ستون ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام سے نہ صرف سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے بلکہ برآمدات اور بیرونی آمدنی پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں انہوں نے حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صنعتوں کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے، توانائی پالیسیوں پر نظرثانی کی جائے اور کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے.