اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے جمعہ کے روز پاکستان کے ماہی گیری کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقامی سطح پر قائم 16 سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس کو روس اور وسیع یوریشین مارکیٹ میں برآمدات کی باضابطہ منظوری مل گئی ہے اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے اس پیش رفت کو میرین فشریز ڈیپارٹمنٹ کے لیے ایک “تاریخی” اور “سنگ میل” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی مسلسل سفارتی اور تکنیکی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت سے پہلی مرتبہ ان نئی منڈیوں تک پاکستانی مچھلی اور سی فوڈ کی برآمدات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ چین، خلیجی ممالک، جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور امریکہ میں برآمد پہلے ہی جاری ھے۔
انہوں نے کہا کہ روسی حکام نے پاکستان میں 16 سی فوڈ پروسیسنگ پلانٹس کی رجسٹریشن کے ذریعے پاکستانی سی فوڈ کو اپنے ملک برآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سالانہ سی فوڈ برآمدات جو اس وقت تقریباً 50 کروڑ ڈالر ہیں، آئندہ برسوں میں بڑھ کر 80 کروڑ ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ صرف روسی مارکیٹ سے ابتدائی طور پر 30 کروڑ ڈالر کی آمدن متوقع ہے وزیر بحری امور کے مطابق اس سے یوریشین اکنامک یونین کے رکن ممالک کو بھی رسائی ممکن ھو گی، جہاں وسطی ایشیائی ممالک جیسے قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں بڑھتی شہری آبادی اور پروٹین سے بھرپور خوراک کے رجحان کے باعث سی فوڈ کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مقامی پیداوار محدود ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات کے لیے بحری، فضائی اور زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، جن میں وسطی ایشیا کے ذریعے کم لاگت زمینی راستے بھی شامل ہیں۔ وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کو گرم پانی کی اقسام جیسے جھینگا اور ربن فش کی بدولت ان منڈیوں میں مسابقتی برتری حاصل ہے، جبکہ گوادر اور کراچی جیسے اسٹریٹجک بندرگاہیں اس حوالے سے اہم کردار ادا کریں گی محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اور بین الاقوامی معیار پر عملدرآمد اسے نمایاں ترقی کے مواقع فراہم کرتا ہے، تاہم عالمی منڈی میں زیادہ حصہ حاصل کرنے کے لیے انفراسٹرکچر کی بہتری اور مؤثر پالیسی سپورٹ ناگزیر ہے۔

