اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے سیمنٹ سیکٹر پر اپنی تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بھاری ٹیکسوں، پالیسی کی خامیوں اور مسابقتی رکاوٹوں کے باعث یہ اہم صنعتی شعبہ دباؤ کا شکار ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافہ اور مسابقتی عدم توازن نمایاں ہو رہا ہے۔
سی سی پی کی جانب سے جاری رپورٹ ’’پاکستان کے سیمنٹ سیکٹر کا مسابقتی جائزہ‘‘ میں بتایا گیا ہے کہ ملک کا صنعتی شعبہ معیشت کی بنیاد ہے، جہاں بڑے پیمانے کی صنعتیں مجموعی صنعتی پیداوار کا تقریباً 67.5 فیصد حصہ فراہم کرتی ہیں اور قومی پیداوار میں ان کا حصہ تقریباً 8 فیصد ہے۔ اس تناظر میں سیمنٹ کی صنعت نہایت اہم ہے جو تقریباً ایک فیصد قومی پیداوار میں حصہ ڈالنے کے ساتھ بنیادی ڈھانچے اور ہاؤسنگ منصوبوں کے لیے کلیدی اہمیت رکھتی ہے رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025 کے دوران سیمنٹ کی مقامی کھپت میں کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں شمالی اور جنوبی دونوں علاقوں میں طلب میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کی بڑی وجہ معاشی دباؤ اور تعمیراتی سرگرمیوں میں سست روی بتائی گئی ہے۔ تاہم فی کس سیمنٹ کا استعمال عالمی اوسط سے کم ہونے کے باعث اس شعبے میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سیمنٹ سیکٹر کو ساختی، ضابطہ جاتی اور پالیسی سطح پر متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بھاری سرمایہ کاری کی ضرورت، معدنی وسائل والے علاقوں میں پانی کی قلت، نقل و حمل کی بلند لاگت اور موسمی طلب میں اتار چڑھاؤ جیسے عوامل نئے سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف صوبوں میں ایکسل لوڈ قوانین کا غیر یکساں نفاذ، چونا پتھر پر مختلف شرحوں سے رائلٹی، بندرگاہ پر کوئلے کی ترسیل کے لیے ایک ہی ٹرمینل پر انحصار اور پیچیدہ ٹیکس نظام مسابقت کو متاثر کر رہے ہیں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کیپٹو پاور پلانٹس کے ایندھن پر عائد لیویز نے توانائی کی لاگت میں اضافہ کیا ہے جبکہ کمزور سرحدی نگرانی کے باعث سمگلنگ اور جعلی سیمنٹ کی موجودگی نے مارکیٹ میں غیر منصفانہ مقابلے کو فروغ دیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی صنعت متاثر ہو رہی ہے بلکہ معیار اور صارفین کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔
سی سی پی نے ان مسائل کے حل کے لیے جامع اصلاحات کی سفارش کرتے ہوئے معدنی وسائل کے شعبے کی ترقی، ایکسل لوڈ قوانین کے نفاذ میں ہم آہنگی، رائلٹی کے نظام کو یکساں بنانے، بندرگاہوں پر کوئلے کی ترسیل میں مسابقت لانے، ٹیکس پالیسی میں استحکام پیدا کرنے اور توانائی کی قیمتوں کو حقیقت پسندانہ بنانے پر زور دیا ہے کمپٹیشن کمیشن کے مطابق ان اصلاحات کے ذریعے سیمنٹ سیکٹر میں مسابقت کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور طویل المدتی بنیادوں پر اس کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ رپورٹ سی سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے.

