“پیٹکو سیڈز” کو سیڈ بزنس انٹرپرائز کی منظوری پی اے آر سی کی تحقیق کو تجارتی شکل دینے میں اہم سنگِ میل

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا وژن پاکستان کے سیڈ سیکٹر میں تبدیلی کا محرک پاکستان کے سیڈ سیکٹر میں ایک تاریخی اور اہم پیش رفت کے طور پر، “پیٹکو سیڈز” جو کہ پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) کا ایک اقدام ہے، کو نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (NSDRA) کی جانب سے سیڈ بزنس انٹرپرائز کے طور پر باضابطہ منظوری حاصل ہو گئی ہے۔ یہ کامیابی ملک میں معیاری بیجوں کی فراہمی کو بہتر بنانے اور سیڈ انڈسٹری کو مضبوط کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق، رانا تنویر حسین نے زرعی شعبے خصوصاً سیڈ سیکٹر کی جدید خطوط پر ترقی کے لیے غیر معمولی قیادت اور پختہ عزم کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیٹکو سیڈز کو سیڈ بزنس انٹرپرائز کی منظوری پاکستان کے زرعی شعبے کو جدید، مضبوط اور مسابقتی بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے وفاقی وزیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت قومی اداروں، بالخصوص پی اے آر سی، کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے تاکہ تحقیق کو براہِ راست کسانوں تک پہنچایا جا سکے اور ملک کی غذائی خودکفالت کو یقینی بنایا جا سکے۔

وزیر کی رہنمائی میں پی اے آر سی نے ادارہ جاتی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے فروغ اور زرعی کاروباری سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے کے لیے متعدد اسٹریٹجک اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد تحقیق اور اس کے عملی و تجارتی استعمال کے درمیان خلا کو کم کرنا ہے پیٹکو سیڈز کی منظوری اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ پی اے آر سی اپنی تحقیق کو تجارتی کامیابی میں تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ بطور سیڈ بزنس انٹرپرائز، پیٹکو سیڈز اب معیاری بیجوں کی پیداوار، پراسیسنگ اور تقسیم میں اہم کردار ادا کرے گا، جس سے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور قومی غذائی تحفظ کو تقویت ملے گی۔

چیئرمین پی اے آر سی، ڈاکٹر سید مرتضیٰ حسن اندرابی نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ادارے کی تحقیق کو تجارتی شکل دینے کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹکو سیڈز جدید زرعی تحقیق اور اس کے عملی اطلاق کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرے گا، جس سے ملک بھر کے کسان مستفید ہوں گے پیٹکو سیڈز اعلیٰ معیار، موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور زیادہ پیداوار دینے والی بیج اقسام کی تجارتی دستیابی پر توجہ دے گا، جو پاکستان کے مختلف زرعی ماحولیاتی علاقوں کے لیے موزوں ہوں گی۔ اس اقدام سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت کو فروغ اور روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے موسمیاتی تبدیلی، غذائی عدم تحفظ اور بڑھتی ہوئی آبادی جیسے چیلنجز کے تناظر میں، وفاقی وزیر کا وژن اور پی اے آر سی کے اقدامات جیسے پیٹکو سیڈز ایک پائیدار، مضبوط اور خودکفیل زرعی نظام کی تشکیل کی جانب ایک مؤثر قدم ہیں