چیئرمین نیب کی وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے ملاقات

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ) چیئرمین نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (نیب)، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس، اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس میاں ریاض حسین پیرزادہ سے ملاقات کی وفاقی وزیر نے چیئرمین نیب کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور ملک کے اعلیٰ ترین انسدادِ بدعنوانی ادارے کے طور پر نیب کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے ریاستی اداروں میں شفافیت کے فروغ اور احتساب کو یقینی بنانے کے لیے نیب کی کاوشوں کی تعریف کی۔ وزارت کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی کی بعض حکومتوں کے فیصلوں کے باعث سرکاری اثاثوں اور جائیدادوں کو نمایاں مالی نقصان پہنچا، جس کے ازالے کے لیے اصلاحی اقدامات ناگزیر ہیں۔

وفاقی وزیر نے مزید زور دیا کہ وزارت اور اس کے ذیلی اداروں کو جدید اور مؤثر اراضی کے استعمال کے ذریعے پائیدار اور آمدن پیدا کرنے والے اداروں میں تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے فرسودہ اثاثہ جاتی بندوبست کے طریقوں پر نظرثانی اور انہیں موجودہ تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جس میں کم استعمال ہونے والی عمارتوں کو مؤثر اور پیداواری مقاصد کے لیے بروئے کار لانا بھی شامل ہے ملاقات کے دوران چیئرمین نیب نے وزارت کے قیمتی اثاثوں کو ملک کے مختلف شہروں میں ہاؤسنگ کی ترقی کے لیے بہتر انداز میں استعمال کرنے سے متعلق مختلف تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے کامیاب بین الاقوامی ہاؤسنگ ماڈلز کو اپنانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور تجویز دی کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری (ICT) میں پائلٹ منصوبے شروع کیے جائیں، جنہیں بعد ازاں ملک بھر میں اپنایا جا سکے۔ انہوں نے سرکاری اثاثوں کے حوالے سے شفاف اور منصفانہ پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا اور اس ضمن میں بدانتظامی اور بدعنوانی کے تدارک کے لیے نیب کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفاقی سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس، کیپٹن (ر) محمد محمود نے شرکاء کو کراچی میں جائیدادوں اور اثاثہ جات کی موجودہ صورتحال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 512 ایکڑ رقبے پر مشتمل 3,000 سے زائد رہائشی یونٹس اس وقت اسٹیٹ آفس کے دائرہ اختیار میں ہیں، جو کہ وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کا ذیلی ادارہ ہے۔ ان جائیدادوں میں سے متعدد قانونی تنازعات، غیر قانونی قبضوں اور استحقاق سے متعلق مسائل کا شکار ہیں، جس کے باعث قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے سیکرٹری نے اس بات پر زور دیا کہ ان مسائل کو ایک جامع اور مؤثر پالیسی فریم ورک کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے مضبوط ادارہ جاتی ہم آہنگی، خصوصاً نیب اور عدلیہ کے ساتھ تعاون ناگزیر ہے ملاقات کے اختتام پر شفافیت کے فروغ، گورننس کی بہتری اور قومی اثاثوں کے بہترین استعمال کے ذریعے عوام کے مفاد کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا-