grand hayat tower islamabad capitalnewspoint.com

اسلام آباد ہائی کورٹ کا گرینڈ حیات اپارٹمنٹس خالی کرانے کا حکم، لیز غیر قانونی قرار

اسلام آباد(سپیشل رپورٹر) وفاقی دارالحکومت کے حساس ترین علاقہ میں واقعہ گرینڈ حیات ہوٹل اور اپارٹمنٹس بھی غیر قانونی نکلے پولیس رہائشیوں سے خالی کروانے کے لیے موقع پر پہنچ گئی 2005 میں 13 ایکڑ کی زمین پر یہ لگزری ہوٹل 99 سال کی لیز پر کمپنی کو دیا گیا جس میں کانسٹی ٹیوشن ایونیو پر زیر تعمیر گرینڈ حیات ڈیولپمنٹ میں وزیراعظم عمران خان، سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف سمیت اہم سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کے فلیٹس ہیں۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے سال 2016 میں تین کروڑ روپے مالیت جبکہ خواجہ محمد آصف ، شاندانہ گلزار چوہدری اعتزاز احسن کشمالہ طارق سمیت سابق وزیراعظم کے اپارٹمنٹس بھی مبینہ طور پر شامل ہیں لگژری اپارٹمنٹ سال 2015 میں ایک کروڑ 49 لاکھ 99 ہزار روپے میں خریدا گیا تھا.

رات گئے اچانک پولیس نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو اپارٹمنٹس خالی کرانے کے لئے اندر داخل ہوئی کارروائی کے دوران پولیس نے روڈ بھی بلاک کی ہوئی تھی آدھی رات کاروائی سے رہائشیوں میں شدید خوف وہراس پھیلا
پولیس نے رہائشیوں کو بتایا کہ بلڈنگ کو بارہ گھنٹے میں خالی کرائیں حکام کے مطابق یہ بلڈنگ غیر قانونی ہے سی ڈی اے نے 2005 میں 13 ایکٹرز کی یہ زمین لگژری ہوٹل کیلئے 99 سالہ لیز پر ایک کمپنی کو دی تھی تاہم کمپنی نے ہوٹل کی بجائے لگژری اپارٹمنٹس بنا کر فروخت کر دئیے ہیں یہ کاروائی پولیس نے عدالت کے احکامات کی روشنی میں کیے جو کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جاری کئے یہ فیصلہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعرات کے روز کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے کثیر ارب روپے کے ڈیفالٹ کے باعث ون کانسٹیٹیوشن ایونیو نامی مشہور عمارت گرینڈ حیات ٹاور کی لیز منسوخ کر دی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے M/s BNP (پرائیویٹ) لمیٹڈ اور عمارت میں فلیٹس کے مکینوں کی جانب سے دائر اپیلوں پر فیصلہ سنایا، عدالت نے اس سال فروری میں ریڈ زون میں واقع کانسٹیٹیوشن ایونیو کے قریب گرینڈ حیات عمارت کی لیز کی منسوخی سے متعلق اس اہم کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

CDA کے وکیل کاشف علی ملک نے شہری ادارے کی جانب سے دلائل پیش کیے، یہ کیس متنازعہ فائیو اسٹار ہوٹل منصوبے سے متعلق ہے جو تقریباً دو دہائیاں قبل BNP گروپ کو دیا گیا تھا۔ تاہم، اسے ہوٹل کے بجائے رہائشی اپارٹمنٹس اور کمرشل ایریاز میں تبدیل کر دیا گیا، عمارت کے اپارٹمنٹس مبینہ طور پر معروف شخصیات کی ملکیت بھی ہیں، جن میں تحریک انصاف کے بانی عمران خان، چوہدری اعتزاز احسن، شاندانہ گلزار اورنگزیب، سابق وزیر برجیس طاہر، سابق نگراں وزیر اعظم ناصرالملک اور کشمالہ طارق شامل ہیں۔

CDA کے مطابق 21 سال گزرنے کے باوجود BNP اپنی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا۔ ادارے نے کہا کہ نیلامی کی شرائط کے تحت زمین کی مکمل قیمت کی ادائیگی پر ہی ملکیت کے حقوق حاصل ہونا تھے۔ 17.5 ارب روپے کی واجب الادا رقم میں سے صرف 2.9 ارب روپے، یعنی تقریباً 16.6 فیصد، ادا کیے گئے، CDA نے 9 جنوری 2019 کے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا اور مؤقف اختیار کیا کہ BNP اس میں دی گئی شرائط پر عمل کرنے میں ناکام رہا عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ بعد ازاں سپریم کورٹ کے نظرثانی حکم میں قرار دیا گیا کہ 2019 کا فیصلہ وقت کے ساتھ غیر مؤثر ہو چکا ہے، اسی بنیاد پر CDA نے کہا کہ 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال ہو گیا، جس کے تحت زمین اور عمارت کا کنٹرول CDA کو منتقل ہو گیا، CDA نے BNP کے 25 جولائی 2022 کے خط کا بھی حوالہ دیا جس میں کمپنی نے معاشی حالات اور بین الاقوامی ریٹنگ ایجنسیوں کی منفی درجہ بندی کے باعث منصوبہ جاری رکھنے اور سالانہ 2.92 ارب روپے کی ادائیگی سے معذوری ظاہر کی تھی۔

خط میں کہا گیا تھا کہ منصوبے کی تکمیل اور دسمبر 2022 کی قسط کی ادائیگی “ناممکن” ہو چکی ہے، CDA کا مؤقف تھا کہ BNP اپنی ناکامی اور مالی مشکلات کا اعتراف کر چکا ہے، اس لیے وہ لیز کی منسوخی کو چیلنج نہیں کر سکتا، سماعت کے دوران چیف جسٹس ڈوگر نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا سابق سپریم کورٹ جج اعجاز الاحسن وہی شخصیت تھے جنہوں نے پہلے BNP کی نمائندگی کی اور بعد میں اسی معاملے میں بنچ کا حصہ بھی رہے عدالت کو بتایا گیا کہ اس وقت CDA کے وکیل نے اعتراض اٹھایا تھا لیکن اسے مسترد کر دیا گیا، مزید بتایا گیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ایف آئی اے نے کیں، جس کے نتیجے میں BNP کے سی ای او اور سابق CDA حکام کے خلاف مقدمہ درج ہوا، بعد ازاں کیس قومی احتساب بیورو (نیب) کو منتقل کر دیا گیا جہاں کارروائی تاحال جاری ہے، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے بھی اس معاملے کا جائزہ لیا۔

تیسرے فریق کے خریداروں کے حوالے سے CDA نے 2018 کے فیصلے کے پیراگراف 37 کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ذیلی لیز ہولڈرز کا انجام بھی اصل فریق کے ساتھ جڑا ہوگا، CDA نے مؤقف اختیار کیا کہ نیک نیتی سے خریداری کے دعوے حقائق کے متنازع سوالات ہیں جنہیں آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت حل نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا، CDA نے زور دیا کہ اسلام آباد تقریباً دو دہائیوں سے ایک منصوبہ بند فائیو اسٹار ہوٹل سے محروم ہے، جس کے باعث اعلیٰ سطح کے سرکاری دوروں اور سفارتی تقریبات میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔