اسلام آباد میں انسانی پلاسنٹا کی مبینہ غیر قانونی اسمگلنگ کیس، پانچ ملزمان کا ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس میں انسانی پلاسنٹا کی مبینہ غیر قانونی خرید و فروخت اور بیرون ملک اسمگلنگ سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جہاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گرفتار پانچ ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ احمد شہزاد گوندل کی عدالت میں پیش کیا۔

سماعت کے دوران ایف آئی اے نے ملزمان کے مزید سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کیس کی مکمل تفتیش اور نیٹ ورک کے دیگر کرداروں تک رسائی کے لیے مزید وقت درکار ہے، تاہم عدالت نے دلائل سننے کے بعد پانچوں ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں صرف ایک روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی جانب سے تقریباً 30 کارٹنوں پر مشتمل انسانی پلاسنٹا کی کھیپ ویتنام بھجوائی جا رہی تھی، جسے ایئرپورٹ پر روک لیا گیا۔ ان کے مطابق برآمد کیے گئے پلاسنٹا کا مجموعی وزن تقریباً 580 کلوگرام ہے۔

ایف آئی اے کے مطابق حالیہ دنوں ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (ہوٹا) کی مشترکہ کارروائی کے دوران اسلام آباد کے سیکٹر ایف-7 میں چھاپہ مار کر چینی باشندوں سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔ کارروائی کے دوران تازہ، خشک اور پراسیس شدہ انسانی پلاسنٹا کی بڑی مقدار بھی برآمد کر کے قبضے میں لی گئی۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر پشاور، راولپنڈی اور لاہور کے مختلف اسپتالوں سے انسانی پلاسنٹا حاصل کرتے تھے، بعد ازاں اسے پراسیس کرکے بھیڑ کے اعضا ظاہر کرتے ہوئے بیرون ملک برآمد کیا جاتا تھا،ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ کیس کے مختلف پہلوؤں پر مزید تحقیقات جاری ہیں اور ملزمان سے تفتیش کے دوران مزید اہم انکشافات متوقع ہیں۔