قائمہ کمیٹی برائے ریلوے، چھ ماہ میں 35 ٹرین حادثات، 67 فیصد ریلوے انفراسٹرکچر اپنی عمر پوری کر چکا

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس قائم مقام چیئرمین رمیش لال کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ٹرینوں کی ڈی ریلمنٹ، ریلوے حادثات، انفراسٹرکچر، اراضی پر تجاوزات اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، اجلاس کے دوران رکن کمیٹی وسیم قادر نے حالیہ ٹرین حادثات اور ڈی ریلمنٹ کے واقعات کا معاملہ اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ حادثات کے ذمہ داران کا تعین کیا گیا یا نہیں اور ان کے خلاف کیا کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران 35 ڈی ریلمنٹ اور دیگر حادثات پیش آئے، سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ ریلوے کے مجموعی انفراسٹرکچر کا 67 فیصد حصہ اپنی مقررہ عمر پوری کر چکا ہے، جبکہ پاکستان ریلوے سالانہ 38 سے 40 ہزار ٹرینیں چلاتی ہے، ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 37 فیصد حادثات غیر محفوظ اور غیر نگرانی شدہ ریلوے کراسنگز پر پیش آتے ہیں، تاہم ہر حادثے کی انکوائری کی جاتی ہے، ذمہ داری کا تعین کیا جاتا ہے اور متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی بھی کی جاتی ہے۔

کمیٹی کو شالیمار ایکسپریس اور تیزگام حادثات پر بھی بریفنگ دی گئی، ریلوے حکام کے مطابق 15 مارچ 2026 کو ایک کنٹینر ٹرین لوپ لائن پر کھڑی تھی، جسے شالیمار ایکسپریس نے عقب سے ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں انجن اور دو کوچز پٹری سے اتر کر الٹ گئیں جبکہ ریلوے کا ایک ملازم جاں بحق ہوا۔

رکن کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے سوال اٹھایا کہ ریلوے حادثات میں ہونے والے مالی نقصان کا تخمینہ کس طریقہ کار کے تحت لگایا جاتا ہے، انہوں نے وزیر ریلوے حنیف عباسی کی اجلاس میں عدم موجودگی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ وزیر پالیسی سازی کے ذمہ دار ہیں، اس لیے انہیں کمیٹی اجلاس میں موجود ہونا چاہیے۔ قائم مقام چیئرمین رمیش لال نے بھی کہا کہ وزرا کو کمیٹی اجلاسوں میں شرکت کرنی چاہیے۔

ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دیتے ہوئے سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ وزارت نے رواں مالی سال کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے 180 ارب روپے مانگے تھے، تاہم صرف 40 ارب روپے مختص کیے گئے، انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 70 برسوں میں ریلوے کے شعبے میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہیں کی گئی، ان کے مطابق کراچی تا روہڑی سیکشن پر رواں سال کام شروع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ایم ایل ون منصوبے کے لیے 25 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

رکن کمیٹی ملک ابرار نے کہا کہ چند سال پہلے کے مقابلے میں پاکستان ریلوے کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور ریلوے اسٹیشنوں پر نمایاں بہتری نظر آتی ہے۔ رمیش لال نے بھی لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہونے والی بہتری کو سراہا، اجلاس میں ریلوے اراضی پر تجاوزات کا معاملہ بھی زیر بحث آیا، سید وسیم حسین نے کہا کہ ان کی جانب سے سرکاری اراضی پر قبضوں کی شکایت کے باوجود مناسب جواب نہیں دیا گیا، انہوں نے مطالبہ کیا کہ معاملہ ایف آئی اے اور نیب کو بھیجا جائے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ریلوے کی زمینوں پر قبضوں میں کون ملوث ہے۔

احمد سلیم نے اجلاس میں نشاندہی کی کہ ریلوے کا غیر استعمال شدہ سامان چوری ہو رہا ہے، جبکہ کراچی سرکلر ریلوے کی پٹریاں بھی چوری ہونے کی اطلاعات ہیں، انہوں نے تجویز دی کہ اس معاملے پر خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے، سروے کرایا جائے اور غیر استعمال شدہ سامان کی فروخت کے لیے قانون سازی کی جائے، اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کے بعض ارکان نے مستقل چیئرمین کے انتخاب کا عمل جلد مکمل کرانے کا بھی مطالبہ کیا۔