اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) آئی جی اسلام آباد علی ناصر رضوی نے ڈی آئی جی جواد طارق، ایس پی سٹی ایاز حسین اور اے ایس پی نوشیروان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کیس کی تفصیلات سے آگاہ کیا، آئی جی اسلام آباد نے بتایا کہ آج اسلام آباد میں گروپ کیپٹن عاصم طارق کو فائرنگ کر کے شہید کیا گیا، جو پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا، انہوں نے کہا کہ واقعے کے فوری بعد پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور مربوط حکمت عملی کے ذریعے تحقیقات کا آغاز کیا۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزم سعد عباسی ولد سجاد اور خاتون نمرا جی-6 میں واقع ایک کیش اینڈ کیری پر ملازمت کرتے تھے، ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں کے درمیان تقریباً دس روز سے رابطہ تھا، وقوعہ کے روز ملزم نمرا کو اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا، تاہم خاتون نے انکار کر دیا اور کہیں اور جانے پر آمادہ نہ ہوئی، آئی جی کے مطابق ملزم “شیطانی سوچ” کے زیرِ اثر تھا اور یہ تیسری مرتبہ تھا کہ وہ خاتون کو اپنی گاڑی پر لے کر جا رہا تھا، واقعے کے بعد ملزم جائے وقوعہ سے فرار ہو گیا۔
علی ناصر رضوی نے بتایا کہ کیس کی تفتیش کے لیے فوری طور پر 11 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، 275 سیف سٹی کیمروں کی فوٹیج کا جائزہ لیا گیا جبکہ 137 کال ڈیٹا ریکارڈز (CDRs) بھی چیک کیے گئے، تحقیقات کے دوران ملزم کے دوستوں اور دیگر روابط کو بھی ٹریس کیا گیا، آئی جی نے مزید بتایا کہ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزم اس سے قبل ایک خاتون کو میانوالی بھی لے کر گیا تھا۔
ملزم کا آبائی تعلق ایبٹ آباد سے ہے اور فرار ہونے کے لیے اس نے اسکائی ویز سے ٹکٹ بھی خریدی تھی، انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تحقیقات کے دوران مسلسل پولیس سے پیش رفت سے آگاہی لیتے رہے۔ اسلام آباد پولیس نے جدید تفتیشی طریقہ کار اور مربوط کارروائی کے ذریعے صرف 9 گھنٹوں میں کیس ٹریس کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

