federal constitutional court capitalnewspoint.com

وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کی اہلیت کیس میں حکومتی جواب ریکارڈ پر لے لیا

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی آئی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کی اہلیت سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کا جواب ریکارڈ پر لے لیا، جبکہ حکومتی مؤقف کا جائزہ لینے کے لیے درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر گوہر کو مہلت دے دی، وفاقی آئینی عدالت میں پی ٹی آئی رہنما اور رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کی اہلیت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت وفاقی حکومت نے کیس میں اپنا جواب عدالت میں جمع کرا دیا، جس پر درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر گوہر نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں حکومتی جواب کا جائزہ لینے کے لیے وقت دیا جائے، عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کو جواب کا مطالعہ کرنے کے لیے مہلت دے دی۔

سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ صوبائی حکومت نے رہنما کی اہلیت سے متعلق قانون سازی کی، قانون سازی کے ذریعے لا افسران کو صوبائی حکومت کی سروسز سے نکال دیا گیا، جبکہ ایک شخص کی اہلیت کے لیے مخصوص قانون سازی کی گئی۔

اس پر بیرسٹر گوہر نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں بنیادی معاملہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کا ہے، صوبائی حکومت کی قانون سازی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کی گئی، بلکہ کیس کا محور الیکشن کمیشن کے اختیارات ہیں، عدالت نے مزید کارروائی آئندہ سماعت تک ملتوی کر دی۔