انقرہ (ویب ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد نیٹو کے 36 ویں سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ پہنچ گئے ہیں۔
امریکی صدر کو لے جانے والا خصوصی طیارہ انقرہ کے ہوائی اڈے پر اترا، جہاں اجلاس کے دوران نیٹو کے مستقبل، یورپی سلامتی اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سمیت اہم معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔
یہ بیٹھک ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ملکوں پر فوجی اخراجات بڑھانے کے لیے اپنا دباؤ دوبارہ بڑھا دیا ہے، اس دباؤ کے جواب میں توقع کی جا رہی ہے کہ یورپی ممالک اربوں ڈالر کے نئے فوجی معاہدوں کا اعلان کریں گے۔
تاہم امریکی صدر نے ایک بار پھر اس اجلاس سے قبل نیٹو کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، عرب میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اجلاس سے قبل نیٹو کے رکن ممالک پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں مناسب تعاون نہیں کر رہے۔
ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ نیٹو کے کئی ارکان اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں، دوسری جانب یورپی حکام نے صدر ٹرمپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بڑی حد تک اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، یورپی حکام کے مطابق انہوں نے امریکا کو اپنے فضائی راستے اور فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی، حالانکہ انہیں ایران کے خلاف کارروائی سے قبل اعتماد میں نہیں لیا گیا تھا۔

