طالبان حکومت میں افغان خواتین کے حقوق سلب، صنفی امتیاز ریاستی پالیسی بن گیا

کابل (ویب ڈیسک) طالبان رجیم کے تاریک دور میں افغان خواتین کے خلاف صنفی امتیاز کو ریاستی پالیسی بنا دیا گیا ، قابض طالبان رجیم نے افغانستان کو دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ جبکہ افغان خواتین کے لیے قید خانہ بنا دیا ہے، طالبان رجیم نے افغان خواتین سے بنیادی انسانی حقوق اور باوقارزندگی کے تمام مواقع چھین لیے ہیں۔

برطانوی جریدے دی نیو ورلڈ کے مطابق غیر قانونی افغان طالبان رجیم ریاستی سطح پر خواتین کا وجود مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے، جہاں 2021 سے چھٹی جماعت سے آگے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اورخواتین کے کام کے حق کومحدود کر دیا گیا ہے ، رپورٹ کے مطابق 2023 کے بعد سرکاری ملازمتوں میں خواتین کا تناسب21 فیصد سے کم ہو کر17.7 فیصد رہ گیا ہے، اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ تربیت یافتہ پیشہ ورخواتین کی کمی بچوں کی تعلیم، صحت اورمستقبل کے مواقع تباہ کر دے گی۔

جریدے کے مطابق خواتین کی محرومی کے باعث افغانستان کو سالانہ 8 کروڑ 40 لاکھ ڈالرز کا اقتصادی نقصان ہو رہا جومزید بڑھے گا ، افغان تائیکوانڈو کھلاڑی اور انسانی حقوق کی رہنما مرضیہ حمیدی نے کہا کہ طالبان رجیم نے خواتین کوعوامی زندگی سے مٹا دیا، تعلیم پر پابندی لگائی اورامتیازی سلوک کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے، طالبان رجیم ایسے معاشرے کے تصور کوعملی جامہ پہنانے کے قریب ہیں جہاں خواتین کوعوامی زندگی سے پوری طرح خارج کردیا جائے گا۔