پشاور (بیورو رپورٹ) چیئرمین پاکستان علمائے کونسل حافظ طاہر اشرفی نے کہا ہے کہ قومی پیغام امن کمیٹی وزیراعظم کی ہدایت اور فیلڈ مارشل کے وژن کے تحت قائم کی گئی ہے، جس کا مقصد ملک میں مذہبی ہم آہنگی، امن اور اتحاد کو فروغ دینا ہے، پشاور میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ کمیٹی میں اقلیتوں کے نمائندوں کی شمولیت نفرتوں کے خاتمے اور باہمی احترام کے فروغ کی علامت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، تمام مسالک نے متحد ہو کر اس کا سامنا کیا، پشاور چرچ دھماکے کے بعد بھی تمام مکاتب فکر کے علماء نے یکجہتی کا اظہار کیا تھا ، حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک یادگار دن ہے کہ مدارس، مختلف مسالک کی قیادت اور مذہبی رہنما چرچ میں اپنے مسیحی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہوئے۔
ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف پوری قوم متحد ہے اور پاکستان کی مسلح افواج کے جوان ملک کے امن کے لیے عظیم قربانیاں دے رہے ہیں ، حافظ طاہر اشرفی نے کہا کہ اسلام جبر کا قائل نہیں، نہ کسی کو تلوار کے زور پر اسلام قبول کرانے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ہی زبردستی نکاح کی حمایت کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی پیغام امن کمیٹی ملک بھر میں یہ پیغام لے کر نکلی ہے کہ پاکستان امن، رواداری اور باہمی احترام کا نام ہے، حافظ طاہر اشرفی نے مزید کہا کہ کسی گروہ یا جتھے کو اپنی رائے دوسروں پر مسلط کرنے کا حق حاصل نہیں، جبکہ پاکستان مسلمانوں اور غیر مسلم رہنماؤں کی مشترکہ جدوجہد سے حاصل کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام مذاہب کے قائدین آج یہ واضح پیغام دے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پوری قوم ایک ہے، اس موقع پر بشپ ہنفری سرفرار نے کہا کہ پاکستان کے شہداء ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں، شہداء کے خون سے ملک مضبوط ہوتا ہے اور ہمیں ان کی قربانیوں پر فخر ہے۔

