وفاقی وزیر توانائی اور ایرانی سفیر کی ملاقات، بجلی، تجارت اور علاقائی روابط پر اہم گفتگو

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر)وفاقی وزیر برائے توانائی (پاور ڈویژن) سردار اویس احمد خان لغاری سے ایران کے سفیر نے ڈاکٹر رضا امیری مقدم نے ملاقات کی، ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے ایرانی وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور دونوں ممالک کے درمیان توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

ایرانی سفیر نے مشکل حالات میں پاکستان اور اس کے عوام کی جانب سے ملنے والی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان دو ہمسایہ ممالک ہیں جن کے مابین توانائی کے مشترکہ منصوبے اور ٹرانسمیشن لائنز قائم ہیں، انہوں نے بتایا کہ دوسری ٹرانسمیشن لائن پر جلد کام شروع کیا جائے گا، اس وقت 100 میگاواٹ کی فراہمی کا معاہدہ موجود ہے، جسے بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

ایرانی سفیر نے خطے میں روابط (کنیکٹیوٹی) کو وقت کی ضرورت قرار دیا اور کہا کہ وہ تہران میں آئندہ منعقد ہونے والے جوائنٹ کمیشن کے اجلاس میں پاکستانی کمپنیوں، بشمول سی پی پی اے جی ، کیسکو اور این جی سی کو مدعو کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے زرعی مصنوعات اور خوراک کے شعبوں میں بھی دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے پر زور دیا اور وقت پر ادائیگیاں کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بجلی کی ادائیگی کے طریقہ کار پر اطمینان کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری نے دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی بدامنی یا کشیدگی پر کوئی خوش نہیں ہے، دنیا بھر کے ممالک موجودہ جنگی حالات کے منفی اثرات بھگت رہے ہیں، جبکہ آر ایل این جی کی عالمی قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستانی عوام کو بھی توانائی کی بلند قیمتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ہر پاکستانی خطے میں جنگ کے خاتمے اور امن کے لیے دعاگو ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت ایرانی قیادت کے ساتھ مل کر تنازعات کے حل کے لیے بہترین کوششیں کر رہی ہے، وفاقی وزیر نے مشکل حالات اور جنگ کے باوجود ایران کی جانب سے بجلی کی مسلسل فراہمی کو سراہا اور خواہش ظاہر کی کہ پاکستانی ماہرین ایران کا دورہ کریں تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ ایران نے جنگی حالات کے باوجود اپنے نیشنل گرڈ کی بہتری اور بجلی کی فراہمی کو کیسے برقرار رکھا۔

گوادر کی ترقی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم گوادر کو ترقی کرتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں، جس کے لیے بجلی کی مستحکم اور بلا تعطل فراہمی انتہائی ضروری ہے۔ اگرچہ ایران سے بجلی کی آمد جاری ہے، لیکن گوادر میں بجلی کے تعطل کے مسائل موجود ہیں جن کے حل اور نیٹ ورک کی پائیداری کے لیے سرمایہ کاری انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان گوادر میں بجلی کی پیداواری سطح پر بھی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔ ہماری طویل المدتی منصوبہ بندی میں ایران کی جانب سے بجلی کی فراہمی کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور گوادر کی پیشرفت کے ساتھ ایران سے بجلی کا حجم مزید بڑھایا جا سکتا ہے، مستقبل میں قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری اور بجلی کی دوطرفہ برآمد و واردات اہم ہے، تاہم سب سے بنیادی چیز بجلی کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنا ہے، وفاقی وزیر نے ایرانی سفیر کی جانب سے دی گئی دعوت کو بخوشی قبول کیا۔

ایرانی سفیر نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کی بے حد تعریف کی اور کہا کہ ان کی مسلسل کوششوں کے بغیر اسلام آباد میں امن مذاکرات ممکن نہیں ہو سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات آج اس بلندی پر پہنچ چکے ہیں جو ماضی میں کبھی نہیں دیکھی گئی، انہوں نے بتایا کہ سال کے اختتام تک دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت کو 4 بلین ڈالر تک پہنچانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

ایرانی سفیر نے مزید کہا کہ ہم ایک خاص برادرانہ رشتے میں جڑے ہیں جسے برقرار رکھنا ضروری ہے، بحری راستوں کی بندش کے باوجود ایرانی حکومت نے تمام تر توانائیاں صرف کر کے پاکستان کی تجارتی ضروریات کو پورا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی تجارت کا ایک بڑا حصہ پاکستانی بندرگاہوں کے ذریعے منتقل کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے، جس کے لیے توانائی اور دیگر شعبوں میں قریبی تعاون ناگزیر ہے۔