نیپال میں تباہ کن سیلاب سے ہلاکتیں 669 ہوگئیں، 2 ہزار سے زائد افراد لاپتا، 97 سالہ خاتون ملبے سے زندہ نکال لی گئی

کٹھمنڈو (ویب‌ڈیسک) نیپال میں تباہ کن سیلاب اور ملبے کے باعث ہلاکتوں کی تعداد 669 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 2 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے اور کئی خاندان اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں ، شدید مشکلات کے باوجود ریسکیو اہلکاروں کی کوششیں جاری ہیں اور کئی مقامات پر امدادی کارروائیوں کے دوران امید کی کرن بھی سامنے آئی۔ طویل آپریشن کے بعد امدادی کارکنوں نے ملبے سے 97 سالہ خاتون کو بحفاظت نکال لیا۔

اسی طرح ایک 8 سالہ بچہ، جو سیلابی صورتحال کے دوران جنگل کی جانب بھاگ کر درخت پر چڑھ گیا تھا، تین روز بعد بالآخر اپنی والدہ سے دوبارہ مل گیا۔ زخمی بچے کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ، حکام کے مطابق لاپتا افراد میں 500 سے زائد غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، جس کے باعث متاثرہ ممالک کی جانب سے بھی اپنے شہریوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق نیپال کے ہمالیائی سرحدی علاقے میں گلیشیئر کا ایک حصہ گرنے کے بعد کیچڑ، برف اور ملبے کا بڑا ریلا دریاؤں میں داخل ہوا، جس نے سیلابی صورتحال کو مزید تباہ کن بنا دیا ، متعدد لاشیں سیلابی ریلے میں بہہ کر متاثرہ علاقے سے تقریباً 100 کلومیٹر دور میدانی علاقوں سے بھی برآمد ہوئی ہیں ، تباہ کن سیلاب کے باعث نیپال کے بنیادی انفرااسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ متعدد سڑکیں، راستے اور دیگر تنصیبات متاثر ہونے کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔

نیپالی وزیر خارجہ کے مطابق ٹنلز میں پھنسے افراد کو نکالنے، لاشوں کی شناخت کے لیے خصوصی تکنیکی معاونت اور امدادی سامان و ٹرانسپورٹ کے لیے بیرونی تعاون کی ضرورت ہے ، دوسری جانب نیپال میں پیش آنے والے سانحے کے دوران گلیشیئر کا بڑا حصہ ٹوٹ کر گرنے کی ویڈیو بھی سامنے آگئی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گلیشیئر کا ایک انتہائی بڑا ٹکڑا ہزاروں میٹر نیچے جھیل میں جاگرا، جس کے نتیجے میں برفانی پانی کی شدید لہر پیدا ہوئی۔

اس لہر میں پہاڑی چٹانیں، درخت، مٹی اور دیگر ملبہ شامل ہوگیا، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑے اور تباہ کن سیلاب کی شکل اختیار کرلی ، ریسکیو ٹیمیں مشکل موسمی اور جغرافیائی حالات کے باوجود لاپتا افراد کی تلاش اور متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔