اسلام آباد(سپیشل رپورٹر ) انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ (ای ڈی بی) کے جنرل منیجر ہیومن ریسورسز/ایڈمن میاں عثمان علی شاہ کو پشاور میں درج ایف آئی آر کے معاملے پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سات روز کے اندر تحریری وضاحت طلب کر لی ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے 17 اگست 2026 کو جاری کردہ نوٹس کے مطابق گریڈ 19 کے میاں عثمان علی شاہ کا نام ایف آئی آر نمبر 860، مورخہ 10 جولائی 2026، تھانہ بھانہ ماری پشاور میں براہِ راست نامزد کیا گیا ہے۔
نوٹس میں ایف آئی آر کے حوالے سے تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 384، 447، 506، 148 اور 149 کا ذکر کیا گیا ہے ، دستاویز کے مطابق ایف آئی آر/درخواست میں کاکا صاحب کستور گل ویلفیئر ٹرسٹ کی جائیداد سے متعلق تنازع کا حوالہ دیا گیا ہے ، درخواست گزار کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ 5 جولائی 2026 کو میاں عثمان علی شاہ مبینہ طور پر چند دیگر افراد کے ہمراہ ٹرسٹ کی جائیداد میں داخل ہوئے، جہاں کرایہ داروں کو مبینہ طور پر دھمکایا اور ہراساں کیا گیا اور انہیں ٹرسٹ کے بجائے مبینہ طور پر ملزمان کو ماہانہ کرایہ ادا کرنے کے لیے کہا گیا۔
درخواست میں میاں عثمان علی شاہ پر مزید مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں ’’قبضہ گروپ‘‘ کا رکن قرار دیا گیا، جبکہ ایک سابقہ پولیس رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے ، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے وضاحتی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے واقعے اور اس معاملے کو بروقت نوٹس میں نہ لانے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔
نوٹس میں اسے سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 کے رول 15 اور سول سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 کے رول 31 کے تناظر میں مس کنڈکٹ قرار دیے جانے کا ذکر کیا گیا ہے ، نوٹس کے مطابق میاں عثمان علی شاہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وضاحت نامہ موصول ہونے کے سات روز کے اندر تحریری طور پر اپنا مؤقف پیش کریں کہ ان کے خلاف سول سرونٹس (ایفی شنسی اینڈ ڈسپلن) رولز 2020 اور سی ایس آر 194 کے تحت تادیبی کارروائی کیوں نہ شروع کی جائے۔
تاہم ذرائع کے مطابق اب تک جواب داخل نہیں کرایا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی دستاویز کے مطابق وضاحتی نوٹس سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی منظوری سے جاری کیا گیا ہے، جبکہ اس کی نقول ایڈیشنل سیکریٹری-II، جوائنٹ سیکریٹری ڈسپلن، جوائنٹ سیکریٹری ای ونگ اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ کے ایس پی ایس کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

