نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام اہم قومی معاملہ ہے، سیاسی مخالفت کے بجائے عوامی سہولت کو مدنظر رکھا جائے. خواجہ آصف

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ملک میں نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا قیام ایک اہم قومی معاملہ ہے، جسے سیاسی مخالفت کے بجائے عوامی سہولت اور بہتر طرزِ حکمرانی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ انہیں فی الحال انتظامی یونٹس کے حوالے سے کسی حتمی پیش رفت یا فیصلے کی معلومات نہیں ہیں، تاہم ان کے مطابق دارالحکومت میں ایک مؤثر اور خودمختار انتظامی نظام کا قیام قابلِ غور تجویز ہوسکتی ہے، جسے صوبائی حکومت یا کیپیٹل حکومت کی مختلف شکل دی جاسکتی ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ دنیا کے متعدد دارالحکومتوں میں دارالحکومت کے لیے الگ انتظامی نظام موجود ہے، جس کا مقصد شہریوں کو بہتر سہولیات اور مؤثر حکومتی خدمات فراہم کرنا ہوتا ہے ، خواجہ آصف نے واضح کیا کہ بطور سیاسی جماعت اس معاملے پر کسی باضابطہ بحث یا فیصلے سے وہ آگاہ نہیں ہیں ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وزیراعظم نے انتظامی یونٹس سے متعلق کوئی اجلاس منعقد کیا ہے تو انہیں اس کی اطلاع نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاقی سطح پر انتظامی نظام میں کوئی تبدیلی کی جاتی ہے تو صوبوں کو بھی عوامی سہولیات کی بہتری کے لیے ایسے اقدامات پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے افغانستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں وقت کے ساتھ صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا اور ان کے بقول اس سے عوامی خدمات کی فراہمی میں بہتری کے حوالے سے مثبت رائے سامنے آئی۔

وزیر دفاع نے زور دیا کہ انتظامی یونٹس کا معاملہ کسی ایک جماعت یا صوبے کے سیاسی مفاد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے قومی ضرورت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے ، ان کے مطابق ایسے فیصلے وفاق اور صوبوں دونوں کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں ، خواجہ آصف نے کہا کہ نئے صوبے بنانے کے بجائے “انتظامی یونٹ” کی اصطلاح زیادہ موزوں ہوسکتی ہے، کیونکہ صوبے کے لفظ سے بعض اوقات غیر ضروری ابہام پیدا ہوتا ہے۔

سندھ حکومت کے مؤقف کے حوالے سے وزیر دفاع نے کہا کہ صوبائی حکومت کو اپنی پوزیشن اختیار کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم انتظامی معاملات میں کسی بھی سیاسی جماعت کے مخصوص مفادات کو ترجیح نہیں دی جانی چاہیے ، انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کی بنیادی ترجیح ایسا مؤثر نظام فراہم کرنا ہونی چاہیے جس کے ذریعے عوام کو نچلی سطح پر ہی ضروری سرکاری خدمات آسانی سے دستیاب ہوں اور انہیں معمولی نوعیت کے معاملات کے لیے دور دراز سرکاری مراکز کا رخ نہ کرنا پڑے۔