اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) پاور ڈویژن کے ترجمان نےایک اخبار میں شائع ہونے والی خبر، جس میں آئی پی پیز سے متعلق حکومتی دعوؤں اور 30 سے 40 سالہ نئے معاہدوں کا ذکر کیا گیا تھا، کی سختی سے تردید کرتے ہوئے اسے حقائق کے منافی قرار دے دیا .
ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق حکومت پاکستان نے IGCEP 2025-35 اور ملک میں بجلی کی فری مارکیٹ کے نفاذ کے ساتھ نئے آئی پی پیز کے قیام اور حکومت کی جانب سے لازمی بجلی خریداری کے نظام کو ختم کر دیا ہے ، پاور ڈویژن نے واضح کیا کہ جامشورو کول پاور پلانٹ آئی پی پی نہیں ہے بلکہ یہ منصوبہ حکومت پاکستان نے ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی مالی معاونت سے قائم کیا ہے ، ترجمان کے مطابق منصوبے کی تعمیر کا آغاز 2018 میں ہوا تھا جبکہ پلانٹ نے مئی 2025 میں کمرشل آپریشن شروع کیا۔
ترجمان نے کہا کہ جامشورو پاور پلانٹ کی کمرشل آپریشن ڈیٹ کو آئی پی پی معاہدے سے منسلک کرنا اور اسے کسی نئے طویل المدتی معاہدے کا حصہ قرار دینا درست نہیں ، پاور ڈویژن کے مطابق اس معاملے کو غلط انداز میں پیش کرکے غیر ضروری سنسنی پیدا کی جا رہی ہے ، ترجمان نے مزید کہا کہ خبر شائع کرنے سے قبل متعلقہ رپورٹر کی جانب سے پاور ڈویژن یا جامشورو پاور پلانٹ کے نمائندوں سے مؤقف یا وضاحت حاصل نہیں کی گئی، جس کے باعث خبر میں حقائق کی درست تصویر سامنے نہیں آسکی۔

