تیمرگرہ (بیورو رپورٹ) امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ 20 ستمبر کا لانگ مارچ ملکی سیاست کا رخ بدل دے گا ، پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی نے تیمرگرہ میں سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے جلسہ عام کا انعقاد کیا، حافظ نعیم الرحمٰن جلسہ گاہ پہنچے تو کارکنوں اور شرکا کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
اس موقع پر نعرے بازی بھی کی گئی، حافظ نعیم الرحمٰن نے جلسے کے بھرپور انعقاد پر پارٹی قیادت کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع چند ہی گھنٹوں میں جلسہ عام میں تبدیل ہوگیا۔
اُن کا جلسے کے شرکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 20 ستمبر کا لانگ مارچ سیاست کا رخ بدل دے گا ، امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سے حالات سمجھ جاؤ، ہم آئے تو تمہارے پاس کچھ نہیں بچے گا، آج بٹ خیلہ کا دھرنا بڑے جلسے میں تبدیل ہوگیا، جبکہ سندھ، خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان میں بھی دھرنے اور احتجاج جاری ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے اور عوام کے حقوق کے لیے میدان میں نکلی ہے، اُنہوں نے کہا کہ حکومت سود کم کرنے کی بات پر آئی ایم ایف کی ناراضی کا خوف دلاتی ہے، لیکن آئی ایم ایف کے ڈر سے اللہ اور رسول ﷺ سے جنگ کی جا رہی ہے، محض سود کی شرح میں معمولی کمی سے بھی قومی خزانے کے اربوں روپے بچائے جا سکتے ہیں۔
امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا کہ بینکوں کے مافیاز، چینی، آٹا اور آئی پی پیز مافیا آپس میں ملے ہوئے ہیں اور قوم کے خون پسینے کی کمائی سے ان مافیاز کو پالا جا رہا ہے، ایسے مافیاز تمام سیاسی جماعتوں میں موجود ہیں، یہ کسی ایک جماعت کا مسئلہ نہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی اب سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کی تحریک سے جڑ رہے ہیں، ہم نے حکمرانوں سے کہا کہ اپنی گاڑیاں چھوٹی کرو، لیکن وہ یہ بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں ، اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر حکومت ہماری دلیل کے سامنے ہار چکی ہے۔
اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے اور حکومت گراؤ تحریک بھی شروع کی جائے گی ، امیر سیاسی پارٹی جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف خطرے میں ہیں، ان کے حالات بہتر نہیں، سیاسی پارٹی جماعت اسلامی کا ہر رہنما اور کارکن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، ہماری قیادت اور کارکنوں میں کوئی فرق نہیں سمجھا جاتا ہے۔

