Sarhad University Incident capitalnewspoint.com

سرحد یونیورسٹی، احتجاج اور فائرنگ کے واقعے کی انکوائری، 3 ملازمین برطرف

اسلام آباد (احسان بخاری/سپیشل رپورٹر) وفاقی دارالحکومت میں روات کے قریب سرحد یونیورسٹی کے باہر طلبہ کا احتجاج، اور فائرنگ کرنے کے معاملے میں یونیورسٹی انتظامیہ نے ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون اور کرنل کی بیوی ڈاکٹر عینہ سمیت تین افراد کو یونیورسٹی انتظامیہ نے انکوائری کے بعد نوکری سے فارغ کر کے رپورٹ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھجوا دی گئی۔

یاد رہے کہ سرحد یونیورسٹی میں طلبہ احتجاج کے دوران یونیورسٹی کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ اس دوران کرنل اسفندیار موقع پر پہنچ گئے ان کی بیوی عینہ بھی یونیورسٹی کی ملازم تھی اس دوران طلبہ اور کرنل کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی جس کے بعد حالات بگڑ گئے اور ہوائی فائرنگ کر دی جو کرنل نے کی یہ واقعہ اس وقت ہوا جب اسلا م آباد پولیس بھی موقع پر موجود تھی، بعد ازاں یونیورسٹی انتظامیہ نے معاملے کی انکوائری کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی.

کمیٹی نے انکوائری رپورٹ مکمل کر کے رپورٹ بھجوا دی جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون ، رحمت ،خاتون ڈاکٹر عینہ کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے جبکہ مختلف سوشل میڈیا پر یہ چل رہا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو یونیورسٹی سے نکال دیا ہے اس حوالے سے یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے ،

کہ کسی کسی طالب علم کو یونیورسٹی سے نہیں نکالا گیا تاہم یونیورسٹی نے تین ملازمین جن میں ایچ او ڈی ڈاکٹر جدون اور کرنل کی بیوی ڈاکٹر عینہ سمیت تین افراد شامل تھے کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے ، یا رہے کہ معاملے کے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا گیا ۔طلبہ نے بتایا کہ معاملہ ایچ او ڈی اور خاتون کے درمیان ہراساں کرنے کا معاملہ تھا جس کا راضی نامہ ہو گیا تھا بعد ازاں ڈاکٹر عینہ کا خاوند کرنل اسفند یار یونیورسٹی پہنچ گیا .

اور اس نے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ہوائی فائرنگ کی طلبا نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس فوجی افسر کو ہتھکڑی لگائی جائے اور مقدمہ درج کیا جائے لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ اسے ہتھکڑی نہیں لگائی جا سکتی جس پر طلبہ نے شدید احتجاج جاری رکھا،کیپیٹل نیوز پوائنٹ میں سرحد یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا .

کہ خاتون افسر یونیورسٹی میں ملازم ہے چند روز قبل ان کو ہراساں کرنے کا معاملہ تھانے میں گیا دونوں فریقین میں صلح ہو گئی تھی ، اس حوالے سے سرحد یونیورسٹی انتظامیہ سے رابطہ کرکے تین ملازمین کو نوکری سے برخواست کرنے کے معاملے میں تصدیق کی کہ تینوں ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ یونیورسٹی کسی طالب علم کو نہیں نکالا گیا،سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جا رہا تھا۔