راولپنڈی (سپیشل رپورٹر) 1965 کی پاک بھارت جنگ کے تیرہویں روز بھی محاذوں پر شدید کشیدگی برقرار رہی ، پاکستانی فوج نے بھارتی پیش قدمی کی کوششوں کو روکنے کے ساتھ مختلف محاذوں پر کامیاب کارروائیاں کیں، جبکہ بھارتی حکومت نے صحافیوں کی جنگی علاقوں تک رسائی محدود کردی۔
جنگ کے تیرہویں روز پاکستانی فوج نے بھارتی فوج کی پیش قدمی ناکام بناتے ہوئے باؤ ریلوے اسٹیشن پر قبضہ کرلیا ، فراہم کردہ معلومات کے مطابق جنگ کے ابتدائی آٹھ روز کے دوران بھارت کو فوجی سازوسامان اور افرادی قوت کے حوالے سے نمایاں نقصان اٹھانا پڑا، جس میں 209 ٹینک اور 140 جنگی طیارے شامل تھے۔
پاکستانی فوج نے کھیم کرن کی جانب پیش قدمی کی بھارتی کوششوں کو بھی روک دیا، جبکہ قصور، جموں اور سیالکوٹ کے محاذوں پر بھی بھارتی فوج کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ، دوسری جانب مجاہدین کی جانب سے سرینگر کے قریب بھارتی فوجی اڈے پر حملے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ پاک فضائیہ نے جموں ایئر فیلڈ کو بھی نشانہ بنایا، جہاں موجود 6 بھارتی ٹرانسپورٹ طیارے تباہ کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔ سیالکوٹ سیکٹر میں پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کا Gnat طیارہ بھی مار گرایا۔
عوام کی جانب سے قومی جذبے کا اظہار :
جنگ کے دوران پاکستانی عوام نے بھی مختلف انداز میں مسلح افواج سے اظہار یکجہتی کیا ، بڑی تعداد میں شہریوں نے جنگ میں زخمی ہونے والے افراد کے لیے خون کے عطیات دیے۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستانی فوج کی مسلسل کامیابیوں کے باعث بھارتی فوج کو مختلف محاذوں پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جنگ کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی پاکستان کی پوزیشن مضبوط رہی۔

