عمران خان ہسپتال منتقلی کیس، سپریم کورٹ کا وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال

اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی شفاء ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں وفاقی آئینی عدالت کے حکم پر اٹارنی جنرل سے قانونی معاونت طلب کرلی, عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت اس مقدمے کی سماعت کس آئینی اختیار کے تحت کرسکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی ، کارروائی کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا فریقین کی جانب سے کوئی عدالت میں موجود ہے, عدالتی عملے نے بتایا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد کی حاضری درج ہے تاہم وہ اس وقت کمرہ عدالت میں موجود نہیں۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اٹارنی جنرل کی آمد کے بعد تمام فریقین کو سنا جائے گا ، اس دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز ایک حکم جاری کرتے ہوئے اس مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ انہوں نے آئینی عدالت کا حکم ججز کے سامنے پڑھ کر سنایا۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے اور وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی تفصیلات سے آگاہ کیا ، ان کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرنے کے ساتھ کیسز بھی اپنے سامنے منگوا سکتی ہے۔

سرکاری افسران کی عدم حاضری پر عدالت کے ریمارکس :

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے 18 اگست کے عدالتی حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران کو عدالت میں طلب کیا گیا تھا لیکن کوئی بھی پیش نہیں ہوا ، انہوں نے سوال اٹھایا کہ افسران کی عدم حاضری عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے زمرے میں نہیں آتی؟

جج نے کہا کہ بظاہر کسی مقام پر غلط فہمی موجود ہے ، انہوں نے علاج سرکاری یا نجی ہسپتال میں کرانے کے معاملے کو فی الحال ایک طرف رکھتے ہوئے استفسار کیا کہ عدالت کے سابقہ حکم کے دیگر حصوں پر عمل درآمد ہوا یا نہیں، بالخصوص ملاقاتوں اور بچوں سے رابطے کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوئی۔

وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر سوالات :

جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت قرآن و سنت سے متعلق معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی اور اس کا دائرہ بنیادی طور پر آئین کی تشریح تک محدود ہے، جبکہ آئینی تشریح کے علاوہ دیگر معاملات سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ کا شریعت بینچ قرآن و سنت سے متعلق تشریح کا اختیار رکھتا ہے۔ اس پر جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ کیا ایسی صورتحال میں سپریم کورٹ درخواستیں خارج کردے یا سماعت روک دے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ وفاقی آئینی عدالت کے حکم کی پابند ہے؟

اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے یہ طے ہونا ضروری ہے کہ وفاقی آئینی عدالت کن معاملات میں ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں مقدمات کا ریکارڈ منگوا کر انہیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا ذکر ہے ، ان کا کہنا تھا کہ مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے سے متعلق یہی نکتہ عدالت کے لیے اہم سوال پیدا کررہا ہے اور اٹارنی جنرل سے اس معاملے پر معاونت درکار ہے۔

جیل حکام کی عدم پیشی پر بھی اظہار برہمی :

سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اڈیالہ جیل انتظامیہ کو ذاتی حیثیت میں عدالت کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا لیکن کوئی سرکاری افسر حاضر نہیں ہوا ، ان کے مطابق اس صورتحال سے سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہ ہونے کا معاملہ سامنے آتا ہے اور اداروں کے درمیان اعتماد و رابطے کا فقدان محسوس ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ متعلقہ سرکاری افسران کو عدالت میں پیش ہونا چاہیے تھا ، جسٹس شاہد وحید نے سوال کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کردیے جائیں؟ اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ افسران کو ایک موقع دیا جائے، ممکن ہے انہیں غلط فہمی ہوئی ہو کہ آج کیس کی سماعت نہیں ہوگی۔

نجی ہسپتال میں علاج سے متعلق مؤقف :

عدالت نے نظرثانی درخواست میں حکومت کی جانب سے اختیار کیے گئے اس مؤقف کا بھی حوالہ دیا کہ بانی پی ٹی آئی کا نجی ہسپتال میں علاج ممکن نہیں۔ اٹارنی جنرل نے بتایا کہ عدالت کے حکم کے مطابق متعلقہ ریکارڈ فراہم کیا جاچکا ہے۔

جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ طبی سہولیات سے متعلق سپریم کورٹ کا سابقہ حکم تاحال موجود ہے ، انہوں نے کہا کہ عدالت وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق آئینی منشا سمجھنے کی کوشش کررہی ہے اور عدلیہ کے درمیان باہمی احترام کے اصول کو مقدم رکھا جاتا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے سوالات کو منفی انداز میں نہ لیا جائے، یہ صرف قانونی صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہیں۔

اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار آئین میں واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔

وکلاء کے دلائل :

جسٹس شاہد وحید نے وفاقی آئینی عدالت کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ طے کرنے کی بات کی گئی ہے کہ بنیادی حقوق سے متعلق مقدمات کی سماعت کون کرسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کا معاملہ تقریباً ہر مقدمے میں سامنے آتا ہے اور فوجداری مقدمات میں شفاف ٹرائل کا حق بھی بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔

وکیل عذیر بھنڈاری نے کہا کہ وہ عدالت کو آئین کے آرٹیکل 175 ای کے حوالے سے معاونت فراہم کریں گے۔

وکیل سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی اپیل میں کسی آئینی تشریح کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے مطابق توہین عدالت کی درخواستوں میں بھی آئین کی تشریح درکار نہیں، جبکہ عدالتی حکم کے باوجود عمران خان کو شفاء ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے دوبارہ استفسار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت کی جانب سے ریکارڈ طلب کرکے مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کے حکم کے قانونی نتائج کیا ہوں گے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل سے اسی نکتے پر مزید معاونت طلب کی۔

بعد ازاں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے مؤخر کردی جائے۔ سپریم کورٹ نے استدعا منظور کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق کیس کی سماعت تین ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔