اسلام آباد (احسان بخاری/ سپیشل رپورٹر) فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے وزارت خارجہ کے دو افسران کو گرفتار کر لیا جبکہ اوپو سٹائل سٹکر لگانے والے مافیا کا سرغنہ سعید عالم کی گرفتاری کے لیے چھاپے تا حال گرفتار نہ ہو سکا 22 گرفتار ملزمان عدالت پیش پانچ روزہ ریمانڈ منطور ملزمان نے وزارت خارجہ کے مزید افسران کے نامو کا انکشاف کر دیا .
اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، مہریں اور نوزائیدہ دستاویزات تیار کرنے والی مافیا کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے مقدمہ درج کر لیا ہے ، ایف آئی آر (مقدمہ نمبر 48/2026) کے مطابق، یہ کارروائی آبپارہ مارکیٹ اسلام آباد میں واقع “F&F پلازہ” کے بیسمنٹ میں کی گئی .
جہاں مختلف کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر کی تلاشی لی گئی ، وزارتِ خارجہ کے اہلکاروں کی شمولیت تفتیش کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس جعل سازی اور فراڈ میں وزارتِ خارجہ (MOFA) کے متعدد اہلکار بھی ملزم ایجنٹوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ میں ملوث تھے، ان اہلکاروں میں شبیر (اے ڈی / اے پی ایس اٹیسٹیشن)، قیصر، احمد، زاہد شاہ (کلرک) اور سمیع اللہ (انچارج اپوسٹل) شامل ہیں جو رشوت کے عوض تصدیقی عمل کو تیز کرنے اور جعلی اسٹیکرز کی گردش میں معاونت کر رہے تھے۔
نامزد ملزمان اور ادارے ایف آئی آر میں نجیب اللہ، فرحان اشفاق، وقار زمان، اظہر اللہ، مطیع اللہ شاہ (سی ای او صوفی کنسلٹنٹس)، امان نسیم، راجہ سعید خان، راجہ یاسر ایوب (ایکسلنٹ کورئیر سروس)، محمد طفیل شاہ (لیپرڈ کورئیر سروس آبپارہ فرنچائز)، راجہ انصار ایوب (راک کنسلٹنسی)، ایم ریاض، ایم سرفراز (نون کنسلٹنٹس)، وقار احمد (جی ایم کنسلٹنٹس)، محمد نصیر، محمد اسامہ، نزاکت علی اور سعید عالم (فیئر لائن سروس) سمیت 22 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
قومی خزانے کو نقصان ایف آئی اے کے مطابق یہ ایجنٹ مافیا سائلین سے تصدیق کے نام پر بھاری رقم وصول کر رہی تھی اور جعلی اپوسٹل اسٹیکرز و سلپس ملک بھر میں گردش کر رہی تھیں، جس سے قومی خزانے کو بھی شدید نقصان پہنچا ، مافیا کا سرغنہ سعید عالم کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے کے چھاپے تا حال گرفتار نہ ہو سکا .
جبکہ دوسری جانب آج ایف آئی اے نے 22 گرفتار ملزمان عدالت پیش کر کے پانچ روزہ ریمانڈ لے لیا ملزمان نے وزارت خارجہ کے مزید افسران کے بارے میں اہم انکشاف کیے ہیں مزید افسران کی گرفتاریوں کی توقع ہے .

