پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے دور رکھنا ضروری ہے، نئے پولیس ایکٹ پر تحفظات ہیں . فیصل کریم کنڈی

پشاور (بیورو رپورٹ) گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے صوبائی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں پولیس کے کردار اور اختیارات سے متعلق منظور کیے گئے نئے پولیس ایکٹ پر انہیں تحفظات ہیں, ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی اثر و رسوخ سے دور رکھنا ضروری ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی دور حکومت میں خیبرپختونخوا پولیس کو ’’ٹائیگر فورس‘‘ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی ، انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پولیس دہشت گردی کے خلاف مسلسل قربانیاں دے رہی ہے اور اہلکاروں کی مراعات و تنخواہوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

گورنر خیبرپختونخوا کے مطابق صوبائی کابینہ نے پولیس ایکٹ کی منظوری دی ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس قانون کی بعض تجاویز پر خود کابینہ کے ارکان کی جانب سے بھی اعتراضات سامنے آئے ہیں ، فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اگر قانون میں کوئی شق آئین سے متصادم ہوئی تو وہ اس پر اعتراض کریں گے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے قانون کے تحت پولیس افسران کی تعیناتیوں اور ترقیوں کے طریقہ کار میں تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں ، ان کے مطابق پولیس کو کسی سیاسی جماعت یا حکومت کے تابع بنانے کے بجائے ایک غیر جانب دار ادارے کے طور پر کام کرنے دیا جانا چاہیے۔

فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پولیس دہشت گردی کے خلاف فرائض انجام دے رہی ہے ، انہوں نے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کی تنخواہوں اور مراعات کو دیگر صوبوں کے برابر لایا جائے۔

گورنر نے صوبے کے دیگر مسائل کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ صحت کے شعبے میں مشکلات موجود ہیں جبکہ ڈاکٹرز کے احتجاج جیسے معاملات بھی سامنے آ رہے ہیں ، ان کے مطابق خیبرپختونخوا وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور حکومت کو نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے سمیت عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔

پی ٹی آئی کے احتجاج پر بھی گورنر کا ردعمل :

پی ٹی آئی کے احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ان کے مطابق جماعت کے اندر احتجاج کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں ، انہوں نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بقول ماضی میں بھی بعض احتجاجی سرگرمیوں کے دوران امن و امان کے مسائل پیدا ہوئے۔

انہوں نے 9 مئی کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے اس حوالے سے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو ذمہ دار قرار دیا، تاہم یہ ان کا سیاسی مؤقف ہے ، فیصل کریم کنڈی نے جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کا بھی حوالہ دیتے ہوئے اسے پرامن احتجاج قرار دیا ، گورنر خیبرپختونخوا نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات سے قطع نظر امن و امان، پولیس کی فلاح، صحت، روزگار اور صوبے کے بنیادی مسائل کے حل کو ترجیح دی جائے۔