بھارت کے ہلاک کرنے کے دعوے پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا ردعمل، محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کردیا

راولپنڈی (سپیشل رپورٹر) ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے کہا ہے کہ بھارت نے 29 ستمبر کو ایک بار پھر مبینہ فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے پاکستان کے خلاف الزامات عائد کیے، تاہم جس شخص کو دہشت گرد قرار دے کر ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا گیا وہ زندہ اور اپنے گھر میں موجود ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارتی فوج کی جانب سے 29 ستمبر کی رات ایک بیان جاری کیا گیا جس میں ایک مبینہ دہشت گرد کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ، ان کے مطابق بھارتی فوج نے ہلاک ہونے والے شخص کو لشکر طیبہ سے منسلک قرار دیتے ہوئے اس کا نام محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ بتایا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی حکام کی جانب سے بعد میں دعویٰ کیا گیا کہ محمد آصف ایس ایس جی کا حوالدار تھا اور مختلف علاقوں میں کارروائیوں میں ملوث رہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کیا۔

’سوشل میڈیا سے معلوم ہوا کہ بھارت نے مجھے شہید کردیا‘ :

محمد آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ بھارتی حکام نے انہیں ہلاک قرار دے دیا ہے ، انہوں نے بتایا کہ بھارتی میڈیا پر ان کے خلاف الزامات نشر ہونے کے بعد انہیں متعدد فون کالز موصول ہونا شروع ہوگئیں۔ محمد آصف کے مطابق وہ ضلع اٹک کے شہر پنڈی گھیپ کے رہائشی ہیں اور 2023 میں ایس ایس جی سے ریٹائر ہوئے۔

محمد آصف نے بھارتی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں حیرت ہوئی کہ وہ اپنے گھر میں موجود ہیں جبکہ بھارت کی جانب سے ان کی ہلاکت کی خبر نشر کی جا رہی ہے۔

بھارت پر دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا الزام :

ڈی جی آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کے لیے مختلف تنظیموں کی حمایت کرتا ہے۔ ان کے مطابق مکتی باہنی اور تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے متعلق بھارتی معاونت کے الزامات پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں ، انہوں نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی تنقید کی اور کہا کہ پاکستان کے خلاف مبینہ فالس فلیگ کارروائیوں کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارتی میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ بعض میڈیا ادارے ریاستی بیانیے کی حمایت میں یک طرفہ رپورٹنگ کرتے ہیں۔

افغانستان کی صورتحال اور دہشت گردی کا معاملہ :

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے افغانستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان حکومت پر دہشت گرد گروہوں کی سہولت کاری اور انہیں مالی معاونت فراہم کرنے کے الزامات ہیں ، ان کے مطابق افغانستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پاکستان کے لیے سیکیورٹی چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں حالیہ داخلی صورتحال سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اپنی سلامتی اور جغرافیائی سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور افواج پاکستان کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

سعودی عرب کے دفاع سے متعلق پاکستان کا مؤقف :

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور حرمین شریفین کے دفاع سمیت سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے گا ، انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، جبکہ افواج پاکستان آئین کے تابع اور ریاستی احکامات کی پابند ہیں۔

’افواج پاکستان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں‘ :

سیاست سے متعلق سوالات پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ مسلح افواج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور سیاسی معاملات پر جواب دینا سیاسی جماعتوں اور سیاسی قیادت کا کام ہے ، انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان سیاسی قیادت نے تشکیل دیا تھا اور اب اس پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق صوبوں کے ساتھ رابطہ اور بات چیت وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کے عوام اور مسلح افواج ملک کو درپیش کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔