راولپنڈی (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی نے کہا ہے کہ قومی ٹیم کی توجہ ورلڈ کپ پر مرکوز ہے اور حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اچھی کارکردگی کے بعد ٹیم کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے ، ان کا کہنا تھا کہ پاکستان ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بھرپور کوشش کرے گا اور جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیم کی تیاری کی جا رہی ہے۔
راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے واضح کیا کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ کے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے ، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ ٹی ٹوئنٹی سیریز میں اچھی کرکٹ کھیلی، تاہم ٹیم کی کوشش ہے کہ گزشتہ سیریز کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ورلڈ کپ کے لیے ایک مضبوط کمبی نیشن تیار کیا جائے۔
قومی کپتان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں اتحاد موجود ہے اور ٹیم کو غیر ضروری طور پر دباؤ میں لینے کے بجائے مثبت انداز میں کھیل پر توجہ دینی چاہیے، انہوں نے کہا کہ پاکستان جارحانہ کرکٹ کھیلنا چاہتا ہے اور قومی ٹیم کا بیٹنگ آرڈر تجربہ کار ہے، جو 400 رنز جیسے بڑے ہدف کے تعاقب کی بھی صلاحیت رکھتا ہے۔
بابر اعظم کی کارکردگی اور ٹیم میں ان کے کردار سے متعلق سوال پر شاہین آفریدی نے کہا کہ بابر اعظم پر کوئی دباؤ نہیں، وہ پاکستان ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی ہیں، ان کے مطابق بابر اعظم نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں رنز بنانے کی کوشش کی ہے، جبکہ نوجوان کھلاڑی بھی ان کے تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ بابر اعظم پانچ سال تک قومی ٹیم کے کپتان رہے ہیں اور اس دوران نوجوان کھلاڑیوں کو ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں مرحلہ وار موقع دیا جاتا ہے اور انہیں مکمل مواقع فراہم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جاتی ہے۔
قومی کپتان نے سلمان علی آغا کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی پرفارمنس بہترین جا رہی ہے، انہوں نے بتایا کہ سلمان علی آغا نے حال ہی میں فرسٹ کلاس کرکٹ میں ٹرپل سنچری بھی اسکور کی، جو ان کی صلاحیتوں کا اظہار ہے۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ پاکستان کے پاس تجربہ کار بیٹنگ آرڈر موجود ہے اور ٹیم کی کوشش ہے کہ بیٹنگ، باؤلنگ اور فیلڈنگ سمیت تمام شعبوں میں بہتر کارکردگی دکھائی جائے، انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی ان تینوں شعبوں میں ٹیم کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
صائم ایوب کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ انہیں ٹی ٹوئنٹی یا ٹیسٹ کرکٹ میں مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم ون ڈے فارمیٹ میں ان کی باؤلنگ ٹیم کے لیے اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو ایک ایک کرکے قومی ٹیم میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ انہیں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع مل سکے، ٹیم مینجمنٹ کی کوشش ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مناسب مواقع دے کر مستقبل کے لیے مضبوط ٹیم تیار کی جائے۔
شاہین آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے حالیہ سیریز میں کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم ٹیم ہر سیریز میں وائٹ واش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی، ان کے مطابق اصل توجہ مسلسل بہتری، ٹیم کمبی نیشن اور ورلڈ کپ کی تیاری پر ہے۔
قومی کپتان نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان ورلڈ کپ میں بھرپور کوشش کرے گا، ان کا کہنا تھا کہ جنوبی افریقہ کی کنڈیشنز کو سامنے رکھتے ہوئے ٹیم تیار کی جا رہی ہے اور کھلاڑیوں کی انفرادی کارکردگی کے ساتھ اجتماعی کوشش بھی کامیابی کے لیے اہم ہوگی۔

