Sarfraz Bugti CM Balochistan Capitalnewspoint.com

قومی سلامتی سیاست سے بالاتر، خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کریں. سرفراز بگٹی

کوئٹہ (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ میرا ذاتی تعلق عزت و احترام پر مبنی ہے، ان کی سیاسی بصیرت اور تجربے کا احترام کرتا ہوں، تاہم خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ کرتے ہوئے زمینی حقائق اور دہشت گردی کے خلاف جاری جدوجہد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن اور ان کی جماعت خود دہشت گردی کے واقعات کا نشانہ بنتے رہے ہیں، توقع ہے کہ وہ اس حساس قومی مسئلے پر رائے قائم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ریاستی کوششوں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو بھی ملحوظ رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے دونوں صوبوں میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، سیاسی قیادت کے طرزِ عمل اور عملی عزم کو سامنے رکھنا چاہیے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی اختلافات کے باوجود دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف قومی مفاد کو ترجیح دینے کی اہم مثال ہے، بلوچستان اسمبلی میں دہشت گردی کے خلاف حکمت عملی، اہم فیصلوں اور متعلقہ معاملات پر اپوزیشن کو اعتماد میں لیا جاتا ہے، حکومت تمام پارلیمانی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ قائد حزب اختلاف میر یونس عزیز زہری مختلف مواقع پر اس طرزِ عمل کا اعتراف کر چکے ہیں جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے پارلیمانی لیڈر میر جہانزیب مینگل کی اسمبلی میں حالیہ تقریر بھی اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ صوبے کی سیاسی قیادت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی ذمہ داری اور کردار کو تسلیم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمعیت علمائے اسلام، نیشنل پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) اور دیگر پارلیمانی جماعتیں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مؤقف رکھتی ہیں، بلوچستان میں امن و امان اور قومی سلامتی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھنے کی ضرورت تسلیم کی جاتی ہے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض بیانات یا سیاسی دعوؤں کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے، پاک فوج سمیت تمام سکیورٹی اداروں کے افسران اور جوان بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، ہر شہادت کے پیچھے ایک خاندان کا دکھ، والدین کی جدائی اور ادھورے خوابوں کی داستان ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر غیر واضح مؤقف یا حقائق سے صرفِ نظر قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، پائیدار امن کے بغیر ترقی، عوامی فلاح اور معاشی استحکام کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے اور اس کے سیاسی و انتظامی نتائج پر بحث ہو یا بلوچستان حکومت کی کارکردگی کا جائزہ، ہر معاملے میں حقائق، عملی اقدامات اور عوام کو فراہم کیے گئے نتائج کو معیار بنانا چاہیے ، سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں اور حکومتوں پر تنقید جمہوری حق ہے لیکن دہشت گردی جیسے حساس قومی مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے ریاست کو درپیش چیلنجز، سکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں کے دکھ کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو سیاسی وابستگیوں اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر دیکھا جانا چاہیے، قومی یکجہتی، سیاسی قیادت کی ذمہ دارانہ گفتگو اور ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون ہی پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو تقویت دے سکتا ہے ، وزیراعلیٰ بلوچستان نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا کہ قومی سلامتی سیاست سے بالاتر ہے، اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر خدارا ریاست کو سیاست کی نذر نہ کیجیے۔