FIA Laiba Ejaz Case Capitalnewspoint.com

اسلام آباد میں مبینہ غیر قانونی گردوں کی پیوندکاری کا نیٹ ورک بے نقاب، 5 ملزمان گرفتار

اسلام آباد (کیپیٹل نیوز پوائنٹ) وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹیشن اتھارٹی (ہوٹا) کے ہمراہ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی اسلام آباد میں چھاپہ مار کر مبینہ غیر قانونی گردوں کی پیوندکاری میں ملوث ایک گروہ کو بے نقاب کر دیا۔

کارروائی کے دوران تین ملزمان کو موقع پر گرفتار کیا گیا، جبکہ دو دیگر ملزمان کو بعد ازاں حراست میں لیا گیا ، عدالت نے گرفتار ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے ، ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ محمد قاسم ولد محمد عارف کو رمضان ارشد ولد محمد ارشد کا گردہ مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس پیوندکاری کے عوض وصول کنندہ سے 30 لاکھ روپے نقد وصول کیے گئے۔

گردے کی پیوندکاری کے لیے ایجنٹوں کے ذریعے ڈونر کا انتظام :

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گروہ کے ایجنٹوں نے ڈونر کو چار لاکھ روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، جن میں سے تین لاکھ 40 ہزار روپے ڈونر کو ملنا تھے، جبکہ 60 ہزار روپے تین ایجنٹوں کے درمیان کمیشن کے طور پر تقسیم کیے جانے تھے۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر طبی ڈگریوں اور متعلقہ اسناد کے بغیر رہائشی مکانات میں گردوں کی پیوندکاری کرتے تھے۔ پیوندکاری کے لیے ضروری ٹشو ٹائپنگ، کراس میچ، PRA اور HLA ٹیسٹ بھی مبینہ طور پر ایجنٹوں کے ذریعے غیر قانونی طریقے سے کروائے جاتے تھے۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ڈونرز کے نمونے وصول کنندگان کے رشتہ داروں کے ناموں پر جعلی ریفرل خطوط کے ساتھ پیش کیے جاتے تھے، تاکہ انہیں قریبی رشتہ دار ظاہر کیا جا سکے۔ حکام کے مطابق وصول کنندگان کا ڈائیلاسس اسلام آباد کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ٹیکنیشن کے ذریعے کروایا جاتا تھا، جبکہ پیوندکاری کے بعد مریض کی حالت خراب ہونے پر اسے دوسرے ہسپتال منتقل کر دیا جاتا تھا۔

ایجنٹوں، طبی عملے اور دیگر افراد پر مشتمل نیٹ ورک :

ایف آئی اے کے مطابق مبینہ گروہ کا نیٹ ورک ایجنٹوں، ایک ڈاکٹر، نرس، اینستھیزیا فراہم کرنے والے، ادویات سپلائی کرنے والے، لیبارٹری ٹیسٹ کروانے والے اور ڈائیلاسس کی سہولت فراہم کرنے والے افراد پر مشتمل تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ گروہ پی ڈبلیو ڈی سوسائٹی اسلام آباد، بحریہ ٹاؤن فیز 4 اور پشاور میں نجی مقامات پر سرگرم رہا۔ کارروائی کے بعد متعلقہ اداروں نے غیر قانونی طبی سیٹ اپ کا معائنہ کیا، جبکہ ہوٹا، اسلام آباد ہیلتھ ریگولیٹری اتھارٹی (IHRA) اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کی ٹیمیں اپنی الگ الگ رپورٹس پیش کریں گی۔

کروڑوں روپے کے دو مکانات منجمد :

مالیاتی تحقیقات کے دوران ایف آئی اے نے مبینہ غیر قانونی آمدن سے خریدی گئی دو جائیدادوں کی نشاندہی کی۔ حکام کے مطابق ایک ملزم نے میڈیا ٹاؤن اسلام آباد میں 10 مرلہ مکان چھ کروڑ 25 لاکھ روپے میں خریدا، جبکہ دوسرے ملزم نے جناح گارڈن فیز ون میں پانچ مرلہ مکان دو کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدا۔

ایف آئی اے کے مطابق دونوں جائیدادوں کی منتقلی ایف آئی اے ایکٹ 1974 کی دفعہ 5 کے تحت نوٹس جاری کرکے منجمد کر دی گئی ہے۔ ملزمان کے بینک ریکارڈ کے حصول کے لیے تمام بینکوں کو خطوط بھی ارسال کیے گئے ہیں، جبکہ دونوں ملزمان کے خلاف علیحدہ منی لانڈرنگ کی کارروائی بھی زیر غور ہے۔

تلاشی کے دوران ملزمان سے 10 لاکھ روپے نقد برآمد کیے گئے، جبکہ تین گاڑیاں بھی ضبط کی گئیں، جن میں ایک چنگان اوشان X7 اور دو ہونڈا سِوک شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق متعلقہ ایکسائز دفتر کے ذریعے ان گاڑیوں کی منتقلی اور رجسٹریشن بھی منجمد کر دی گئی ہے۔

ایف آئی اے کی مزید کارروائیاں جاری :

ایف آئی اے حکام کے مطابق یہ کارروائی ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی ہدایت اور ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد کی نگرانی میں کی گئی۔ آپریشن میں ایف آئی اے کے سب انسپکٹرز تابش جاوید، شہریار اور اہتشام گوندل، اسسٹنٹ سب انسپکٹر سہیل احمد اور ایل ایف سی رباب نے حصہ لیا، جبکہ ہوٹا کی جانب سے اسسٹنٹ آڈٹ آفیسر سردار عادل اور مانیٹرنگ آفیسر ہنا کنول بھی کارروائی میں شریک تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ باقی نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے ، اس معاملے میں ایف آئی آر نمبر 60/2026 مورخہ 15 اکتوبر 2026 درج کی گئی ہے، جس میں ٹرانسپلانٹیشن آف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ایکٹ 2010 کی دفعات 9، 10 اور 11(a)(ii)، جبکہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 34، 419 اور 109 شامل کی گئی ہیں۔