پشاور (بیورو رپورٹ) خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات مزید نمایاں ہونے لگے، حکومت نے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز میں نمایاں کمی کردی۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان گزشتہ کچھ عرصے سے تعلقات کشیدہ ہیں ، بتایا جاتا ہے کہ علی امین گنڈاپور نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا فون نمبر بھی بلاک کر رکھا ہے۔
قومی اسمبلی کے رکن فیصل امین گنڈاپور نے ڈی آئی خان کے ترقیاتی فنڈز روکے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی آخری 43 ارب روپے کی مجموعی ریلیز میں ڈیرہ اسماعیل خان کے لیے صرف 8 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
فیصل امین گنڈاپور کے مطابق ڈی آئی خان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر 50 سے 60 کروڑ روپے سے زائد مالیت کا کام مکمل ہوچکا ہے، تاہم اس کی ادائیگیاں تاحال واجبات کی صورت میں موجود ہیں ، انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کے لیے ان منصوبوں کو کوئی بجٹ مختص نہیں کیا گیا اور بجٹ میں ان کے لیے رقم صفر رکھی گئی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اے ایس ڈی آئی، ڈی آئی خان کے لیے بھی رواں مالی سال کوئی بجٹ مختص نہیں کیا گیا، جبکہ منصوبے کی بجٹ تخصیص بھی صفر ہے ، ڈی آئی خان کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز میں کمی کے معاملے نے پی ٹی آئی کے اندر جاری اختلافات کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

