اسلام آباد (احسان بخاری / سپیشل رپورٹر) ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل اسلام آباد نے ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون کی ہدایت پر آبپارہ میں کارروائی کرتے ہوئے جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دستاویزات کی تیاری و استعمال سے متعلق مبینہ فراڈ نیٹ ورک کا سراغ لگا لیا ، کارروائی کے بعد 22 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج 3 روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ملزمان نے وزارت خارجہ کے اہم افسران کے ملوث ہونے کا انکشاف کر دیا۔
ایف آئی اے کے مطابق اینٹی کرپشن سرکل کی ٹیم نے جمعہ کے روز ایف اینڈ ایف پلازہ آبپارہ کے بیسمنٹ میں قائم مختلف کنسلٹنسی اور کورئیر دفاتر پر چھاپہ مارا، کارروائی کے دوران مبینہ طور پر جعلی اپوسٹل اسٹیکرز، سرکاری مہروں اور دیگر دستاویزات سے متعلق شواہد سامنے آئے ، ایف آئی اے نے مقدمہ نمبر 48/2026 پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 420، 468، 471 اور 109 کے علاوہ پریونشن آف کرپشن ایکٹ 1947 کی دفعہ 5(2) کے تحت درج کر کے تمام دفاتر سیل کر دیے تھے .
تحقیقاتی حکام کے مطابق مبینہ نیٹ ورک میں مختلف نجی کنسلٹنسی اور کورئیر اداروں کے مالکان و ملازمین شامل تھے ، ان اداروں میں سوفی کنسلٹنٹس، ایکسیلنٹ کورئیر سروس، لیوپرڈ کورئیر سروسز ایف اینڈ ایف پلازہ آبپارہ، RAAK کنسلٹنسی، نون کنسلٹنٹس پرائیویٹ لمیٹڈ، GM کنسلٹنٹس اور فیئر لائن سروس شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق ان اداروں سے تعلق رکھنے والے 16 نجی افراد کو مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق وزارت خارجہ کے 6 افسران اور اہلکار بھی مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کا حصہ پائے گئے، جن میں اٹیسٹیشن سے متعلق اے ڈی/اے پی ایس، انچارج اپوسٹل اور دیگر اہلکار شامل ہیں ، تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ ملزمان مبینہ طور پر اپوسٹل اور دستاویزات کی تصدیق کا عمل تیز کروانے کے نام پر درخواست گزاروں سے اضافی رقوم وصول کرتے تھے، جبکہ ایف آئی اے کے مطابق ان رقوم میں سے بعض رقم وزارت خارجہ کے متعلقہ اہلکاروں کو رشوت کے طور پر دیے جانے کا الزام ہے۔
ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جعلی اپوسٹل اسٹیکرز ملک کے مختلف علاقوں میں گردش میں تھے، جس سے قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، متعلقہ عدالت نے گرفتار ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے۔ مقدمے کی مزید تفتیش انسپکٹر ارسلان مسعود خان کے سپرد کی گئی ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سرکل کی نگرانی میں انسپکٹر ارسلان مسعود خان، انسپکٹر حنا رباب ہاشمی، سب انسپکٹر تابش جاوید، سب انسپکٹر فرحین مرتضیٰ، سب انسپکٹر شہریار، اے ایس آئی صفیر کیانی، اے ایس آئی وقاص، اے ایس آئی سہیل طارق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد عزیر پر مشتمل ٹیم نے کی۔
ایف آئی اے حکام نے کہا ہے کہ سرکاری اداروں میں بدعنوانی اور جعلسازی میں ملوث عناصر، خواہ ان کا تعلق نجی شعبے سے ہو یا سرکاری اداروں سے، کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی ،ایف آئی اے نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج 3 روزہ جسمانی ریمانڈ لے لیا گیا ملزمان نے وزارت خارجہ کے اہم افسران کے ملوث ہونے کا انکشاف کر دیا۔
ذرائع کے مطابق ڈی جی آڈٹ کی جانب سے وزارت خارجہ میں 12 ارب روپے کے گھپلوں کے انکشاف کے بعد ایف آئی اے نے اسلام آباد میں چھاپے مار کر مختلف کورئیرز کمپنی جن میں ای سی ایس ECSفیئر لائن کمپنی لیپرڈ کوریئر کاشی انٹرنیشنل ایکسپریس ہالی ڈے اے ایس کنسلٹنٹ جی ایم کنسلٹنٹ اے بی کنسلٹنٹ یہ اٹلی سمیت دیگر ممالک کے ویزے بھی لگوانے کا کاروبار کرتے تھے .
وزارت خارجہ میں ہونے والے آڈٹ رپورٹ میں 12 ارب روپے کے ایک مبینہ گھپلوں کی تحقیقات کرنے والے ڈاکٹر احمد علی سروہی نے یہ آڈٹ کیا تھا جس میں وزارت خارجہ کے بڑے بڑے افسران کے نام بھی آر ہے تھے جس کے بعد وزیرخارجہ کے احکامات کی روشنی میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی گئی جبکہ دوسری جانب ایف آئی اے نے چھاپا مار کر 25 سے زائد افراد کو حراست میں لے کر تمام دفاتر سیل کردیئے ہیں مذکورہ یاد رہے .
کہ وزارت خارجہ میں اوپو سٹائل دستاویزات کی تصدیق کے معاملے میں بڑی مالی بے ضابطگیاں سامنے آرہی تھی جس پر ایف آئی اے نے مقدمہ درج کر کے تحقیقات شروع کی تھی جس میں مبعینہ طور پر وزارت خارجہ کے بڑے افسران اور ان کے چھوٹے ملازمین بھی ملوث ہونے کا ملزمان نے انکشاف کر دیا ہے

