اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) کمپٹیشن کمیشن آف پاکستان (سی سی پی) نے خوردنی تیل، گھی اور چربی کی ترسیل کے کرایے اجتماعی طور پر مقرر کرنے اور ٹینکر مالکان کے درمیان کاروبار تقسیم کرنے کے معاملے پر آل پاکستان ایڈیبل آئل ٹینکر اونرز ایسوسی ایشن پر مجموعی طور پر 6 کروڑ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشن کو کرایوں کے اجتماعی تعین پر 3 کروڑ روپے جبکہ ٹینکر مالکان میں کاروبار کی تقسیم کے معاملے پر مزید 3 کروڑ روپے جرمانہ کیا گیا ہےک,میشن کی مارکیٹ مانیٹرنگ کے دوران کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے مختلف علاقوں تک خوردنی تیل کی ترسیل کے لیے ٹرانسپورٹ نرخ مقرر کرنے سے متعلق سرکلرز کا انکشاف ہوا۔
معاملے پر سی سی پی نے اگست 2024 میں ازخود کارروائی شروع کی، جبکہ فروری 2025 میں ایسوسی ایشن کے دفتر کی تلاشی بھی لی گئی ، تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ 2019 سے 2025 کے دوران ٹرانسپورٹ کرایوں میں مجموعی طور پر 89 مرتبہ تبدیلی کی گئی، جن میں 52 مرتبہ اضافہ جبکہ 37 مرتبہ کمی شامل تھی۔
سی سی پی کے مطابق پاکستان وناسپتی مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے جاری کردہ سرکلرز میں بھی انہی شرحوں کے مطابق کرایوں میں تبدیلیاں ریکارڈ کی گئیں۔ تحقیقات کے دوران آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے بھی تسلیم کیا کہ ٹرانسپورٹ کرایے دونوں ایسوسی ایشنز کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت مقرر کیے جاتے تھے۔
کمیشن نے یہ مؤقف تسلیم نہیں کیا کہ نرخوں سے متعلق سرکلرز صرف مشاورتی نوعیت کے تھے ، سی سی پی نے سپریم کورٹ کے پی وی ایم اے کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ کاروباری حریفوں کو اپنے نرخ آزادانہ طور پر مقرر کرنے چاہئیں۔
تحقیقات میں ٹینکر مالکان کے درمیان کاروبار کی تقسیم کا ایک نظام بھی سامنے آیا، جس میں مبینہ طور پر قطار اور پرچی کے طریقہ کار کو استعمال کیا جاتا تھا ، ستمبر 2023 کے ایک سرکلر میں طے شدہ شرائط کی خلاف ورزی کرنے والے ٹینکر اور اس کے مالک پر الگ الگ 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی شرط بھی موجود تھی۔
سی سی پی نے جرمانے کی رقم مقرر کرتے وقت ایسوسی ایشن کی مارکیٹ میں نمایاں پوزیشن، تقریباً چھ سال تک جاری رہنے والے طرزِ عمل، اعلیٰ عہدیداران کی شمولیت اور انکوائری شروع ہونے کے باوجود نرخوں کے تعین کا سلسلہ جاری رہنے جیسے عوامل کو مدنظر رکھا۔
کمیشن نے ایسوسی ایشن کو ہدایت کی ہے کہ ٹرانسپورٹ کرایوں کے اجتماعی تعین اور ٹینکر مالکان کے درمیان کاروبار کی تقسیم کا عمل فوری طور پر بند کیا جائے۔ اس کے علاوہ موجودہ نرخوں سے متعلق سرکلرز واپس لینے اور قومی اخبارات میں واضح اعلان شائع کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔
سی سی پی کے مطابق اعلان میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ہر ٹینکر مالک اپنے ٹرانسپورٹ کرائے کا تعین آزادانہ طور پر کرسکتا ہے اور ایسوسی ایشن کی رکنیت سے قطع نظر بندرگاہوں سے کھیپ اٹھانے کے لیے آزاد ہوگا ، ایسوسی ایشن کو عائد کردہ 6 کروڑ روپے جرمانہ 60 روز کے اندر جمع کرانا ہوگا ، عدم تعمیل کی صورت میں 50 ہزار روپے یومیہ اضافی جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے، جبکہ کمپٹیشن ایکٹ کے تحت فوجداری کارروائی بھی عمل میں لائی جاسکتی ہے۔

