اسلام آباد (سپیشل رپورٹر) وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان طلبہ سے اظہار یکجہتی کرنے والے پاکستانی طلبہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے نزدیک اس طرزِعمل کی بنیاد محض ہمدردی نہیں بلکہ سیاسی رجحانات بھی ہوسکتے ہیں ، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ پانچ دہائیوں کے دوران افغان شہریوں کی میزبانی کی اور اپنی محدود معاشی و سماجی سہولتوں میں انہیں حصہ دیا۔
وزیر دفاع کے مطابق افغانستان سے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد پاکستان نے امید ظاہر کی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان امن قائم ہوگا اور پاکستان کو اپنی مغربی سرحد پر سلامتی سے متعلق مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ، خواجہ آصف نے الزام عائد کیا کہ پاکستان میں مساجد، اسکولوں، بازاروں اور سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے والے دہشت گردوں میں افغان شہری بھی شامل رہے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض افغان عناصر بھارت کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ افغان شہریوں کے ساتھ ان کے اور ملک کی سول و عسکری قیادت کے براہ راست اور بالواسطہ روابط مختلف ادوار میں جاری رہے، تاہم ان کے مطابق ان رابطوں کے باوجود افغان شہریوں کے رویوں میں مطلوبہ تبدیلی نہیں آئی۔
وزیر دفاع نے افغان طلبہ سے یکجہتی کرنے والے پاکستانی طلبہ کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں یہ رویہ محبت سے زیادہ سیاسی وابستگیوں کی عکاسی کرتا ہے ، انہوں نے پانچ دہائیوں تک پاکستان کی جانب سے افغان شہریوں کی میزبانی اور وسائل میں شراکت کا بھی حوالہ دیا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ افغان طلبہ کے حامی پاکستانی نوجوان اگر خیرسگالی کے جذبے کا اظہار کرنا چاہتے ہیں تو وہ افغانستان کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کی کوشش کریں ، انہوں نے دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
انہوں نے پاکستانی طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی وابستگی یا کسی جماعت سے ہمدردی انہیں اس مقام تک نہیں لے جانی چاہیے جہاں پاکستانی شہریوں کی جانوں کی اہمیت کم محسوس ہونے لگے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان میں افغان طلبہ کی تعلیم کا معاملہ عدالتی سطح پر بھی زیر بحث ہے ، وزارت خارجہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ درست ویزا رکھنے والے اور تسلیم شدہ ڈگری پروگرام میں باقاعدہ داخل افغان طلبہ اپنی تعلیم مکمل کرسکتے ہیں ، دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کی واپسی سے متعلق پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی ہدایات کے خلاف دائر معاملے میں حکمِ امتناع برقرار رکھا ہے۔

